اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے متعارف کرائی گئی فکسڈ ٹیکس اسکیم پر کم ردِعمل کے بعد ملک بھر میں مارکیٹوں اور دکانوں کی میپنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ایک بیان کے مطابق ایف بی آر کے افسران تاجر نمائندوں کے ساتھ مل کر ایسی دکانوں کی نشاندہی کریں گے جو اسکیم میں شامل نہیں ہوئیں، جبکہ اہل دکانداروں کو طریقہ کار اور مقررہ ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ بھی کیا جائے گا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی اسکیم کے تحت دکانداروں کے لیے ایک فیصد ٹیکس کی شرح، بعض آڈٹ سہولتوں اور نقد لین دین کی گنجائش کا فریم ورک رکھا گیا ہے۔ ایف بی آر حکام نے اجلاس میں بتایا کہ اسکیم کے تحت 787 ریٹرنز موصول ہوئے، مگر ان میں صرف چار نئے فائلرز تھے، جس پر حکومت نے شمولیت کی رفتار کو توقعات سے کم قرار دیا۔
حکام کے مطابق ایف بی آر افسران روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹوں کے دورے کریں گے اور دکانوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ وزیرِ مملکت نے ہدایت کی کہ میپنگ کے دوران تاجروں کو اسکیم کے طریقہ کار کی وضاحت کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق مقررہ مدت کے بعد عدم تعمیل کی صورت میں مرحلہ وار جرمانے بھی رکھے گئے ہیں، جن میں پہلے، دوسرے اور تیسرے ماہ کے لیے بالترتیب 10 ہزار، 25 ہزار اور 50 ہزار روپے تک کی رقم بیان کی گئی ہے۔
ایف بی آر نے 29 ستمبر کو اپنے الگ سرکاری بیان میں کہا تھا کہ چھوٹے دکانداروں کی خصوصی ٹیکس اسکیم ابھی ابتدائی نفاذ کے مرحلے میں ہے اور رجسٹریشن میں پیش آنے والی تکنیکی یا عملی مشکلات دور کرنے کے لیے تاجروں اور ان کی تنظیموں سے رابطہ جاری ہے۔ بورڈ نے اہل تاجروں کو تکنیکی مسئلے کی صورت میں براہِ راست ایف بی آر سے مدد لینے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
ٹریبیون کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ تاجروں کے لیے بنائے گئے ریٹرن فارم کے ”دیگر آمدن“ والے خانے سے متعلق ایک تکنیکی مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔ حکومت پہلے ہی ریٹرن جمع کرانے کے لیے 15 دن کی توسیع دے چکی ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ نئی اسکیم کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں بڑی تعداد میں ایسے تاجروں کو لانا مقصود ہے جو اس وقت نظام سے باہر ہیں۔
میپنگ کا فیصلہ محض رجسٹریشن مہم سے اگلے مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ، تاجر تنظیموں کے ردِعمل اور جرمانوں کے اطلاق کی صورتِ حال آنے والے دنوں میں واضح ہوگی۔ حکومت اور ایف بی آر کے بیانات میں فی الحال توجہ آگاہی، رجسٹریشن اور بعد ازاں عدم تعمیل پر کارروائی کے فریم ورک پر ہے۔
