اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس دہندگان کے فیس لیس آڈٹ کے لیے نیا طریقہ کار جاری کیا ہے جس میں فیس لیس آڈٹ یونٹ اور اس کے افسران کے کام، اختیارات اور کارروائی کے مراحل کی وضاحت کی گئی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے یہ طریقہ کار ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے جاری کیا، جس کا مقصد آڈٹ کے عمل کو یونٹ پر مبنی اور زیادہ منظم انداز میں چلانا ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت فیس لیس آڈٹ یونٹ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت آڈٹ کرے گا، جس میں دفعہ 72B کے تحت منتخب کیے گئے کیسز بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ یونٹ دفعہ 11E سے متعلق کارروائی اور اس سے منسلک یا ضمنی امور بھی سنبھال سکے گا۔ اس دائرہ کار میں معلومات اور شواہد حاصل کرنے کے لیے نوٹس یا تقاضے جاری کرنا اور متعلقہ کارروائی سے پیدا ہونے والی جرمانہ یا ڈیفالٹ سرچارج کی شقوں پر عمل کرنا شامل ہے۔

جب کسی منتخب کیس کو آڈٹ یونٹ کے سپرد کیا جائے گا تو یونٹ افسر دفعہ 25 کے مطابق آڈٹ شروع کرے گا۔ کارروائی کے دوران وہ مزید معلومات یا وضاحت طلب کرنے کے لیے نوٹس جاری کر سکتا ہے، کسی دوسرے متعلقہ شخص سے ضروری معلومات حاصل کر سکتا ہے اور، جہاں ضرورت ہو، چیف کمشنر سے جسمانی تصدیق کی درخواست کر سکتا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق یونٹ افسر تکنیکی مدد بھی مانگ سکتا ہے، جس میں ویلیوایشن، فرانزک یا کسی مخصوص شعبے کی مہارت شامل ہو سکتی ہے۔

نئے طریقہ کار میں ای ہیئرنگ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ ٹیکس دہندہ یا رجسٹرڈ شخص کی وضاحت اور ای ہیئرنگ کا ریکارڈ دیکھنے کے بعد یونٹ افسر آڈٹ رپورٹ جاری کرے گا۔ رپورٹ میں آڈٹ کے مشاہدات، نتائج اور کسی وضاحت کو مسترد کرنے کی وجوہ درج کرنا ہوں گی۔ اگر دفعہ 11E کے تحت مزید کارروائی درکار ہو تو یونٹ افسر نوٹس جاری کر کے جواب حاصل کرے گا اور اپنے نتائج تشخیصی یونٹ کو منتقل کرے گا۔

ایف بی آر کے مطابق آڈٹ رپورٹ جاری ہونے کے بعد آڈٹ کا مرحلہ مکمل تصور ہوگا اور ریکارڈ خودکار تقسیم کے ذریعے اس افسر یا یونٹ کے لیے دستیاب ہوگا جو تشخیصی عمل انجام دے گا۔ اس انتظام سے آڈٹ اور اسیسمنٹ کے مراحل کو الگ رکھنے اور کیسز کی تقسیم کو نظام کے ذریعے آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں بیان کردہ طریقہ کار انتظامی عمل کی نئی ساخت کی وضاحت کرتا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آڈٹ یونٹس نوٹس، معلومات کے حصول، ای ہیئرنگ، جسمانی تصدیق اور تکنیکی معاونت کے اختیارات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ٹیکس دہندگان کے لیے اہم نکتہ یہ ہے کہ فیس لیس آڈٹ ہونے کے باوجود معلومات، وضاحت اور سماعت کے قانونی تقاضے برقرار رہیں گے۔