اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا مواد سے پاکستان میں پیدا ہونے والی آمدن کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں، جن کا نمایاں ہدف ایسے غیر مقیم افراد ہیں جو پاکستانی صارفین کی ویوز، فالوونگ یا دوسری آن لائن سرگرمی سے کمائی کرتے ہیں۔ ڈان کے مطابق یہ قواعد ایس آر او 1642 آف 2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔

نئے طریقہ کار کے تحت وہ افراد دائرۂ کار میں آسکتے ہیں جن کی سوشل میڈیا آڈینس ایک سال میں 50 ہزار صارفین سے زیادہ یا کسی سہ ماہی میں 12 ہزار 250 صارفین سے زیادہ ہو۔ ایف بی آر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ایسی انٹرنیٹ سروس کے طور پر بیان کیا ہے جہاں صارفین ایک دوسرے سے تعامل کرتے اور مواد شیئر کرتے ہیں، جبکہ پلیٹ فارم کی معاشی قدر صارفین کی شرکت، نیٹ ورک اثرات اور ان کی سرگرمی یا ڈیٹا کی مونیٹائزیشن سے پیدا ہوتی ہے۔

قواعد کے مطابق قابل ٹیکس آمدن کے تعین میں سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن سے اخراجات منہا کیے جاسکیں گے، تاہم قابل قبول اخراجات کی حد مجموعی ریونیو کے 30 فیصد تک رکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معاوضے کا حساب اصل کمائی یا مقررہ ریونیو فی ہزار ویوز میں سے زیادہ رقم کی بنیاد پر لگایا جائے گا۔ یوٹیوب کے لیے یہ بینچ مارک فی ایک ہزار ویوز 195 روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں بعد میں نظرثانی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ افراد کو سہ ماہی بنیاد پر ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن میں اس آمدن کے لیے مخصوص حصہ بھی مکمل کرنا ہوگا۔ ایف بی آر کے کمشنرز کو کم ظاہر کی گئی آمدن کی درستی کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

حکومت نے رواں بجٹ میں سوشل میڈیا مواد سے ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس شرح متعارف کرائی تھی۔ نئے قواعد اس قانون کے اطلاق اور پاکستان سے منسلک ڈیجیٹل کمائی کے تعین کے لیے مزید تفصیلی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔

یہ ضابطہ خاص طور پر اس سوال کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ کسی غیر مقیم کریئیٹر کی آمدن کا کتنا حصہ پاکستان میں صارفین کی سرگرمی سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔ حتمی ٹیکس ذمہ داری متعلقہ شخص کی آمدن، آڈینس، قابل قبول اخراجات اور قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق طے ہوگی۔