اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2026 کے لیے حتمی الیکٹرانک انکم ٹیکس ریٹرن فارم نوٹیفائی کر دیے ہیں۔ ایف بی آر کی سرکاری فہرست کے مطابق ایس آر او 1495(I)/2026 مورخہ 2 ستمبر کے ذریعے انکم ٹیکس رولز 2002 میں ترمیم کی گئی اور اسے ”فائنل الیکٹرانک ریٹرنز فار ٹیکس ایئر 2026“ کے عنوان سے جاری کیا گیا۔ نوٹیفکیشن ٹیکس سال 2026 پر لاگو ہوگا اور الیکٹرانک فائلنگ کے لیے مختلف اقسام کے ٹیکس دہندگان کے الگ فارم مقرر کرتا ہے۔
ترمیم کے تحت انکم ٹیکس رولز کے دوسرے شیڈول میں پہلے سے موجود حصہ II-ZD کے بعد چار نئے حصے II-ZE، II-ZF، II-ZG اور II-ZH شامل کیے گئے ہیں۔ سرکاری دستاویز میں یہ حصے بالترتیب افراد، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ایسوسی ایشن آف پرسنز یا فرمز، اور کمپنیوں کے الیکٹرانک ریٹرن فارم سے متعلق ہیں۔ اس تقسیم کا مقصد ہر قانونی و کاروباری زمرے کے لیے اس کی نوعیت کے مطابق آمدن، ٹیکس اور متعلقہ معلومات جمع کرنے کا الگ سانچہ فراہم کرنا ہے۔
دستیاب فارم صفحات میں آمدن کے ذرائع کے انتخاب، ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاصے، معاشی لین دین، تنخواہ، جائیداد اور کاروباری آمدن، قابلِ قبول کٹوتیوں، ٹیکس ادائیگی، کاروباری تفصیلات اور ضروری منسلکات کے خانے شامل ہیں۔ ہر فارم کے تمام حصے ہر ٹیکس دہندہ پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتے؛ متعلقہ خانے فرد یا ادارے کی آمدن، قانونی حیثیت اور سرگرمی کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔ ریٹرن آئی رس کے الیکٹرانک نظام کے ذریعے جمع کرایا جاتا ہے اور درست اندراج کی ذمہ داری ٹیکس دہندہ یا اس کے مجاز نمائندے پر رہتی ہے۔
حتمی نوٹیفکیشن سے پہلے ایف بی آر نے 7 مئی 2026 کو ایس آر او 835(I)/2026 کے ذریعے انہی مجوزہ فارموں کا مسودہ شائع کیا تھا اور متاثرہ فریقوں سے اعتراضات یا تجاویز طلب کی تھیں۔ ستمبر کا ایس آر او حتمی قانونی شکل فراہم کرتا ہے۔ حتمی دستاویز میں فارموں کا نفاذ بتایا گیا ہے، تاہم عوامی نوٹیفکیشن کے ساتھ ایسی الگ ہدایت سامنے نہیں آئی کہ پہلے سے جمع کرایا گیا ہر ریٹرن لازماً دوبارہ فائل کیا جائے؛ کسی مخصوص کیس میں آئی رس کی موجودہ حیثیت اور ایف بی آر کی بعد کی ہدایات فیصلہ کن ہوں گی۔
یہ نوٹیفکیشن بذاتِ خود کوئی نئی انکم ٹیکس شرح، اضافی واجب الادا رقم یا فائلنگ کی عمومی آخری تاریخ میں توسیع نہیں ہے۔ ایف بی آر کے شائع شدہ عمومی شیڈول کے مطابق افراد اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ 30 ستمبر، عام ٹیکس سال رکھنے والی کمپنیوں کے لیے 31 دسمبر اور خصوصی ٹیکس سال رکھنے والی کمپنیوں کے لیے 30 ستمبر درج ہے۔ متعلقہ قانون یا الگ سرکاری حکم کے بغیر فارم کی تبدیلی کو آخری تاریخ کی خودکار توسیع نہیں سمجھا جا سکتا۔
بزنس ریکارڈر نے ایک ٹیکس ماہر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 30 ستمبر کی تاریخ کے قریب فارم میں تبدیلی سے ٹیکس دہندگان اور پیشہ ورانہ نمائندوں کے لیے قانونی اور تکنیکی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ یہ ایک ماہر کی تشویش ہے، ایف بی آر کی تسلیم شدہ خرابی یا عدالتی نتیجہ نہیں۔ اس اعتراض کا عملی وزن اس بات سے واضح ہوگا کہ آئی رس میں حتمی فارم کس وقت مکمل طور پر دستیاب ہوتے ہیں، پہلے سے محفوظ ڈیٹا کس طرح منتقل ہوتا ہے اور ایف بی آر کسی وضاحت یا مہلت کا الگ اعلان کرتا ہے یا نہیں۔
ٹیکس دہندگان کے لیے بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ ٹیکس سال 2026 کی فائلنگ اب حتمی نوٹیفائی شدہ الیکٹرانک سانچوں کے مطابق ہونی ہے۔ قابلِ ادائیگی ٹیکس کا تعین متعلقہ آمدن، چھوٹ، کٹوتی، ودہولڈنگ اور قانون کی قابلِ اطلاق دفعات سے ہوگا، محض نئے فارم کے اجرا سے نہیں۔ ریٹرن جمع کرنے سے پہلے آئی رس میں درست زمرہ، ظاہر شدہ معلومات، ویلتھ یا کاروباری تفصیلات اور ادائیگی کے اندراجات کی مطابقت اس لیے اہم ہوگی کہ نوٹیفکیشن نے رپورٹنگ کا حتمی ڈھانچہ مقرر کر دیا ہے۔




