اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ان لینڈ ریونیو سروس اور پاکستان کسٹمز سروس کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 اکتوبر 2026 تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی سالانہ تفصیل نئے آن لائن پورٹل کے ذریعے جمع کرائیں۔ یہ ڈیکلریشن 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال سے متعلق ہوں گی۔
ایف بی آر کی جانب سے فیلڈ فارمیشنز کو جاری ہدایات کے مطابق ادارے نے بی ایس 17 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے آمدن اور اثاثوں کی تفصیل جمع کرانے کے عمل کو ڈیجیٹل بنانے کا نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ اس اقدام کے بعد وہ دستی طریقہ کار بتدریج ختم کیا جا رہا ہے جس کے تحت افسران کاغذی فارم یا دیگر روایتی ذرائع سے اپنی معلومات جمع کراتے تھے۔
دستیاب سرکاری ہدایات کے مطابق یہ نظام اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 16 ستمبر 2026 کے دفتر یادداشت کے بعد نافذ کیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایف بی آر کے تعاون سے بی ایس 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے آمدن اور اثاثوں کی تفصیلات جمع کرنے، ان کی تصدیق اور متعلقہ قانونی تقاضوں کے مطابق اشاعت کے لیے ڈیجیٹل میکنزم قائم کرنے کی ہدایت دی تھی۔
نئے نظام میں متعلقہ افسر کو اپنا نام، عہدہ، فعال ذاتی ای میل ایڈریس، موبائل نمبر اور قومی شناختی کارڈ نمبر اپنے کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو فراہم کرنا ہوگا۔ ان معلومات کی بنیاد پر ایف بی آر پورٹل پر اکاؤنٹ بنایا جائے گا، جس کے بعد افسر کو ای میل، ایس ایم ایس یا کسی دوسرے مقررہ ذریعے سے اکاؤنٹ اور جمع کرانے کے طریقہ کار سے متعلق اطلاع دی جائے گی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ افسران ذاتی ای میل ایڈریس فراہم کریں، تاکہ تبادلے یا سرکاری تعیناتی میں تبدیلی کے باوجود رابطے کی معلومات برقرار رہیں۔ اس شرط کا مقصد ڈیکلریشن کے عمل کو مستقل اور قابلِ سراغ بنانا ہے۔
یہ اقدام سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی متعلقہ شق اور سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 کے تحت اثاثوں کی تفصیل سے متعلق تقاضوں کے نفاذ کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کی ہدایات میں افسران کو مقررہ تاریخ تک معلومات مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل ریکارڈ سازی اور تصدیق کا عمل بروقت شروع ہو سکے۔
اثاثوں کی ڈیکلریشن سے متعلق یہ نظام ایف بی آر کے اپنے افسران کے لیے انتظامی اور احتسابی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ادارہ خود ٹیکس وصولی، کسٹمز اور مالی شفافیت سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ نئے پورٹل کے ذریعے جمع ہونے والی معلومات کے استعمال، تصدیق اور اشاعت کا عمل متعلقہ قانونی اور سرکاری قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔
