کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کاروباری برادری کے زیر التوا ریفنڈز اور ریبیٹس کے معاملے میں مجموعی طور پر 126 ارب روپے کی ادائیگی پر پیش رفت کی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں کے مطابق ایف بی آر نے 83 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز اور 43 ارب روپے کے ڈیوٹی ریبیٹس جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ تفصیلات ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کے ساتھ کراچی کی کاروباری برادری کی ملاقات کے بعد بتائیں۔
یہ ملاقات وزیراعظم کی اس ہدایت کے تحت ہوئی جس میں کراچی کے کاروباری حلقوں کے ساتھ ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں رابطہ اجلاس منعقد کرنے کا کہا گیا تھا۔ اجلاس میں ٹیکس ریفنڈز، موخر شدہ ریفنڈز اور کسٹمز سے متعلق مختلف عملی مسائل زیر بحث آئے۔ ایف پی سی سی آئی کے مطابق موخر شدہ ریفنڈز کو ایک سے دو ماہ میں ادا کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا، جبکہ سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی ریبیٹس کی ادائیگی کے لیے بھی وقت بندی پر بات ہوئی۔
اجلاس میں درآمدی سامان کے لیے پری ارائیول گڈز ڈیکلریشن فائل کرنے میں بینکوں کی فنڈز آئیڈینٹی فکیشن شرط کے اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔ کاروباری نمائندوں کا موقف تھا کہ درآمد کنندگان ادائیگی کے انتظام تک انتظار کرتے ہیں، جس سے سامان پہنچنے سے پہلے ڈیکلریشن داخل کرنے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ ایف پی سی سی آئی کے مطابق اصولی طور پر اس شرط کو آؤٹ چارج مرحلے پر جانچنے کی تجویز سے اتفاق کیا گیا تاکہ پری ارائیول فائلنگ بڑھے اور کلیئرنس کا وقت کم ہو؛ متعلقہ اسٹیٹ بینک ضوابط میں ممکنہ ترمیم بھی زیر غور آئے گی۔
کلاسیفکیشن تنازعات کے حل کی مدت کم کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر چیئرمین نے موجودہ 120 دن کی مدت کو 90 دن کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کم خطرے والی سیلز ٹیکس رجسٹریشن ایک ہفتے میں مکمل کرنے جبکہ زیادہ خطرے والے معاملات میں متعلقہ ایسوسی ایشنز سے تصدیق لے کر عمل تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ اگر 126 ارب روپے کی ادائیگیاں طے شدہ مدت میں مکمل ہوتی ہیں تو برآمد کنندگان اور دیگر کاروباروں کے ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم اصل اثر ادائیگیوں کے عملی اجرا اور زیر التوا دعوؤں کی کلیئرنس پر منحصر ہوگا۔




