اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر 2026 تک، مجموعی طور پر 3.083 ٹریلین روپے محصولات جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس مدت کے لیے 3.053 ٹریلین روپے کا ہدف مقرر تھا، اس طرح وصولیاں ہدف سے تقریباً 30 ارب روپے زیادہ رہیں۔
ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ہدف سے زائد کارکردگی میں سیلز ٹیکس کی وصولیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں بھی مقررہ سطح سے بہتر رہیں، تاہم انکم ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی کے مد میں جمع ہونے والی رقوم اپنے متعلقہ سہ ماہی اہداف تک نہ پہنچ سکیں۔ اس فرق کے باوجود مجموعی ٹیکس وصولیوں نے سہ ماہی ہدف عبور کر لیا۔
محصولات کی یہ صورت حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت آمدنی بڑھانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے اور مالیاتی خسارہ محدود رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار اس لیے بھی اہم ہیں کہ مالی سال کے ابتدائی تین ماہ پورے سال کے ٹیکس ہدف کی رفتار جانچنے کا بنیادی پیمانہ سمجھے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی مجموعی وصولیوں میں مختلف ٹیکس مدات کی کارکردگی یکساں نہیں رہی۔ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ہدف سے بہتر وصولیاں، انکم ٹیکس اور کسٹمز میں کمی کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ مہینوں میں براہ راست ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹی کی وصولیوں پر مزید توجہ درکار ہوگی تاکہ سالانہ ہدف کے لیے مطلوبہ رفتار برقرار رکھی جا سکے۔
ایف بی آر کے محصولات کے اعداد و شمار ابتدائی نوعیت کے ہوتے ہیں اور بعد میں مصالحت و حتمی حساب کے عمل میں معمولی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ تاہم یکم اکتوبر تک دستیاب معلومات کے مطابق پہلی سہ ماہی کا مجموعی ہدف عبور کر لیا گیا ہے۔ حکومت کے لیے اگلا امتحان یہ ہوگا کہ معاشی سرگرمی، درآمدات، توانائی کی قیمتوں اور ٹیکس کمپلائنس میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے باوجود اگلی سہ ماہیوں میں بھی اسی رفتار کو برقرار رکھا جائے۔

