وفاقی بورڈ آف ریونیو نے سابق فاٹا اور پاٹا میں کام کرنے والے بعض اسٹیل یونٹس کے لیے بجلی کے استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس کے رعایتی نرخوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق SRO 1664(I)/2026 کے ذریعے 31 جولائی 2026 کے SRO 1245(I)/2026 میں ترمیم کی گئی ہے۔ ایف بی آر کی ویب سائٹ پر بھی SRO 1664(I)/2026 تازہ نوٹیفکیشنز میں درج ہے۔
ترمیم کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا میں مقامی remeltable scrap استعمال کرنے والے اسٹیل میلٹرز اور کمپوزٹ یونٹس بجلی کے ہر یونٹ استعمال پر 20 روپے کی شرح سے سیلز ٹیکس ادا کریں گے۔ اسٹیل ری رولرز، خواہ وہ مقامی یا درآمدی خام مال استعمال کرتے ہوں، اسٹیل بارز کی تیاری پر بجلی کے فی یونٹ استعمال سے منسلک مخصوص رعایتی شرح کے تحت ٹیکس ادا کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں خام مال کی نوعیت اور درآمدی تناسب کے مطابق مزید امتیاز بھی رکھا گیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق اگر درآمدی خام مال یا ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے رجسٹرڈ افراد سے براہِ راست خریدا گیا remeltable steel scrap گزشتہ بارہ ماہ میں مجموعی استعمال کے 70 فیصد سے زیادہ ہو تو متعلقہ یونٹس کے لیے بجلی کے فی یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس کی شرح لاگو ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ شرائط پوری ہوں۔
سابق فاٹا اور پاٹا کے اسٹیل ری رولرز کے لیے رپورٹ میں بجلی کے فی یونٹ 20 روپے کا رعایتی نرخ بھی بیان کیا گیا ہے۔ نئے قائم ہونے والے یا دوبارہ فعال ہونے والے اسٹیل مینوفیکچرنگ یونٹس کے لیے کم شرح کی اہلیت سہ ماہی درآمدات یا خریداری کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔
یہ اقدام عمومی قومی سیلز ٹیکس شرح میں تبدیلی نہیں بلکہ مخصوص جغرافیائی علاقوں اور مخصوص اسٹیل پیداواری اکائیوں کے لیے موجود رعایتی نظام کی ترمیم ہے۔ اس لیے اس کا اطلاق ہر اسٹیل یونٹ یا ملک کے تمام مینوفیکچررز پر یکساں نہیں ہوگا۔ متعلقہ کاروباروں کے لیے اصل واجب الادا ٹیکس ان کے مقام، خام مال کے ذرائع، بجلی کے استعمال، درآمدی تناسب اور ایف بی آر کے نوٹیفائی کردہ اہلیتی معیار پر منحصر ہوگا۔

