اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس سال 2026 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے بڑھا کر 15 اکتوبر 2026 کر دی ہے۔ ایف بی آر کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق یہ توسیع ان افراد اور اداروں پر لاگو ہوگی جن کے لیے پہلے 30 ستمبر تک ریٹرن فائل کرنا لازم تھا۔

ایف بی آر نے بتایا کہ مختلف تجارتی تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے اضافی وقت کی درخواستیں موصول ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق بورڈ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 214A کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے نئی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس طرح متعلقہ ٹیکس دہندگان کو اپنی معلومات مکمل کرنے، گوشوارے تیار کرنے اور مقررہ نظام کے ذریعے جمع کرانے کے لیے مزید وقت مل گیا ہے۔

توسیع کا اعلان اصل ڈیڈلائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا۔ اس سے پہلے کاروباری حلقوں اور ٹیکس ماہرین کی جانب سے ریٹرن فائلنگ کے عمل میں پیش آنے والی مشکلات اور اضافی مہلت کی ضرورت کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق بعض تنظیموں نے ریٹرن فارم کے اجرا میں تاخیر، آن لائن نظام پر زیادہ دباؤ اور تکنیکی مسائل کو بھی بروقت فائلنگ میں رکاوٹ قرار دیا تھا۔

اسی روز اس معاملے پر ابہام بھی پیدا ہوا تھا جب سوشل میڈیا پر ڈیڈلائن میں توسیع سے متعلق ایک غیر مصدقہ سرکلر گردش کرتا رہا، جسے ایف بی آر نے ابتدا میں جعلی قرار دیا۔ بعد ازاں بورڈ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے 15 اکتوبر تک توسیع کی تصدیق کر دی۔ اس لیے ٹیکس دہندگان کے لیے قابل عمل تاریخ وہی ہے جو ایف بی آر کے حتمی سرکلر میں درج ہے۔

ایف بی آر کے اعدادوشمار، جنہیں ڈان نے رپورٹ کیا، ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکس سال 2026 میں 29 ستمبر تک ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھی۔ بورڈ کی جانب سے ٹیکس بیس وسیع کرنے اور ڈیجیٹل فائلنگ بہتر بنانے پر زور جاری ہے، جبکہ نئی مہلت کا مقصد ان ٹیکس دہندگان کو قانونی تقاضے پورے کرنے کا اضافی موقع دینا ہے جو اصل تاریخ تک ریٹرن مکمل نہیں کر سکے تھے۔

توسیع کے باوجود ایف بی آر نے یہ نہیں کہا کہ فائلنگ کی دوسری شرائط یا ٹیکس واجبات میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے۔ متعلقہ افراد اور کاروبار کو اپنی قانونی ذمہ داری، قابل ادائیگی ٹیکس اور فائلنگ کی درست صورت حال جانچنے کے لیے ایف بی آر کی تازہ ہدایات اور اپنے ٹیکس مشیر سے رجوع کرنا چاہیے۔