اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سوشل میڈیا مواد سے حاصل ہونے والی آمدن کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں جن کا ہدف ایسے غیر مقیم افراد بھی ہیں جو پاکستان میں موجود صارفین کی سرگرمی اور تعامل کے ذریعے آمدن حاصل کرتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق قواعد ایس آر او 1642 آف 2026 کے ذریعے نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق وفاقی بجٹ میں سوشل میڈیا مواد سے ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس کی شرح متعارف کرائی گئی تھی۔ نئے قواعد اس نظام کے اطلاق کے لیے صارفین کی تعداد سے متعلق حد بھی مقرر کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے مواد سے ایک سال میں 50 ہزار سے زیادہ یا ایک سہ ماہی میں 12 ہزار 250 سے زیادہ صارفین وابستہ ہوں تو متعلقہ آمدن نئے ضابطے کے دائرے میں آسکتی ہے۔
ایف بی آر کی اس پیش رفت کا بنیادی تعلق ڈیجیٹل معیشت میں ایسی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے ہے جو پاکستان میں موجود ناظرین یا صارفین سے پیدا ہوتی ہے، خواہ مواد بنانے والا فرد ملک سے باہر مقیم ہو۔ اس طرح ٹیکس انتظامیہ روایتی کاروباری سرگرمیوں کے ساتھ آن لائن پلیٹ فارمز سے ہونے والی کمائی کی نگرانی کا دائرہ بھی بڑھا رہی ہے۔
ٹیکس حکام نے ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نشاندہی کا عمل بھی شروع کیا ہے جن کے فالوورز کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو اب تک ٹیکس نیٹ سے باہر رہے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص اکاؤنٹ یا فرد کے خلاف حتمی ٹیکس ذمہ داری کا تعین متعلقہ قانون، آمدن کی نوعیت اور قواعد کے اطلاق کے بعد ہی ہوگا۔
نئے قواعد ایسے وقت آئے ہیں جب پاکستان میں محصولات بڑھانے اور معیشت کے غیر دستاویزی حصوں کو ٹیکس نظام میں لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کاروبار، اشتہارات، اسپانسر شدہ مواد اور صارفین کی بنیاد پر ہونے والی کمائی تیزی سے بڑھی ہے، جس کے باعث ٹیکس حکام کے لیے آمدن کے مقام اور صارفین کی جغرافیائی موجودگی جیسے سوالات اہم ہو گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے عملی اثرات کا انحصار ایف بی آر کی عمل درآمد کی تفصیلی ہدایات، پلیٹ فارمز یا ادائیگی کے ذرائع سے دستیاب معلومات اور متعلقہ ٹیکس دہندگان کی حیثیت پر ہوگا۔ نئی حدیں اور پانچ فیصد شرح بہرحال یہ واضح کرتی ہیں کہ حکومت پاکستان سے منسلک ڈیجیٹل آمدن کو باقاعدہ ٹیکس فریم ورک میں شامل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

