اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ ٹائر مینوفیکچررز کو 30 نومبر 2026 تک الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس نظام کے ذریعے ٹائر فیکٹریوں کی پیداوار حقیقی وقت میں ریکارڈ ہو گی اور متعلقہ ڈیٹا ٹیکس حکام کے مرکزی نظام تک منتقل کیا جائے گا۔ یہ اقدام سیلز ٹیکس کی وصولی اور حقیقی پیداواری اعدادوشمار کے درمیان فرق کم کرنے کے وسیع ڈیجیٹل مانیٹرنگ پروگرام کا حصہ ہے۔

ڈان کے مطابق ایف بی آر نے یہ ہدایت سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 32 آف 2026 کے ذریعے جاری کی۔ نئے انتظام کے تحت ہر رجسٹرڈ ٹائر ساز ادارے کو کیورنگ پریس اور ٹیک اوے کنویئر یا فنشنگ لائن پر مقررہ ہارڈویئر اور سافٹ ویئر نصب کرنا ہو گا تاکہ تیار ہونے والے ہر ٹائر کا الیکٹرانک ریکارڈ بنایا جا سکے۔

مانیٹرنگ سسٹم صرف تیار ٹائروں کی گنتی نہیں کرے گا بلکہ اسے ڈرائی رن، مرمت یا وارم اپ سائیکل اور حقیقی پیداوار میں فرق کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔ منظور شدہ اسٹاک کیپنگ یونٹ ڈیٹا کی مدد سے ٹائر کے قطر، چوڑائی، ٹریڈ ڈیزائن یا پیٹرن اور وزن جیسی خصوصیات بھی ریکارڈ کی جائیں گی۔ اس کا مقصد پیداوار کے اعدادوشمار کو زیادہ تفصیلی اور قابل تصدیق بنانا ہے۔

ایف بی آر نے آئی ایس ایس ایم لیبلنگ سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹائر صنعت کے لیے الیکٹرانک پیداواری نگرانی کا حل فراہم کرنے کی اجازت دی ہے۔ مجاز وینڈر کو پیداوار کے واقعات کی حقیقی وقت میں ریکارڈنگ اور ڈیٹا کی محفوظ ترسیل یقینی بنانا ہو گی۔ نظام میں غیر متوقع بندش، آلات کی خرابی، چھیڑ چھاڑ، رکاوٹ یا مانیٹرنگ سے بچنے کی کوششوں کی نشاندہی اور رپورٹنگ کی صلاحیت بھی شامل ہو گی۔

حکم کے تحت آڈٹ لاگز، پیداواری رپورٹس اور تجزیاتی ڈیٹا محفوظ کیا جائے گا تاکہ سیلز ٹیکس قانون کے تحت ریکارڈ کی جانچ اور نفاذ میں استعمال ہو سکے۔ رجسٹرڈ مینوفیکچررز کو اس وقت تک تیار ٹائر کاروباری احاطے سے باہر لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک ان کی پیداوار مقررہ الیکٹرانک مانیٹرنگ سے نہ گزری ہو۔ فیکٹریوں کو ضروری آئی ٹی انفراسٹرکچر، رابطہ، بجلی اور مانیٹرنگ آلات تک رسائی فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے۔

ابتدائی فہرست میں نو رجسٹرڈ مینوفیکچررز شامل ہیں، جن میں گندھارا ٹائر اینڈ ربڑ کمپنی، سروس لانگ مارچ ٹائرز، سروس ٹائرز، پینتھر ٹائرز، ڈائمنڈ ٹائرز، سروس انڈسٹریز، غوری ٹائر اینڈ ٹیوب، کراؤن ٹائرز اور یونائیٹڈ ربڑ شامل ہیں۔ ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ یہ فہرست حتمی نہیں اور دیگر تمام رجسٹرڈ ٹائر مینوفیکچررز بھی حکم کے دائرے میں آئیں گے۔

ایف بی آر پہلے ہی متعدد صنعتوں کو الیکٹرانک پیداواری نگرانی کے نظام میں شامل کر چکا ہے۔ وزیراعظم نے اکتوبر میں ٹیکس حکام کو بڑے صنعتی شعبوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سال کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹائر شعبے کے لیے نئی آخری تاریخ اسی پروگرام کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کا ایک مرحلہ ہے۔