فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستان کسٹمز کے نظام کو ValidAP نامی بلاک چین پر مبنی کراس ویلیڈیشن پلیٹ فارم کے ساتھ مربوط کر دیا ہے۔ ڈان کی 30 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ انضمام پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے فعال کیا گیا ہے اور اس کا مقصد سرحد پار تجارت میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک دستاویزات کی اصلیت اور سالمیت کی تیز اور محفوظ تصدیق کرنا ہے۔
ValidAP ہانگ کانگ کسٹمز نے تیار اور ہوسٹ کیا ہے۔ پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے درمیان 18 مئی کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد اس ٹیکنالوجی کو پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ جوڑا گیا۔ حکام کے مطابق شریک کسٹمز اور ریگولیٹری ادارے اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان سنگل ونڈو سے جاری ہونے والی دستاویزات، مثلاً سینیٹری اور فائٹو سینیٹری سرٹیفکیٹس اور برآمدی اجازت ناموں، کی تصدیق کر سکیں گے۔
نظام کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اصل دستاویز یا اس کا مکمل ڈیٹا دوسرے ادارے کو منتقل کیے بغیر اس کی صداقت جانچی جا سکتی ہے۔ پلیٹ فارم کرپٹوگرافک ہیش پر مبنی تصدیق استعمال کرتا ہے۔ اگر رجسٹرڈ دستاویز میں بعد میں کوئی تبدیلی کی جائے تو ہیش میں فرق کے ذریعے اس کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اس طریقے کا مقصد جعل سازی اور دستاویزی ردوبدل کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ڈیجیٹل تصدیق کاغذی دستاویزات اور دستی جانچ پر انحصار گھٹا سکتی ہے، جس سے کسٹمز کلیئرنس اور کارگو کے بندرگاہ یا ٹرمینل پر رکے رہنے کے وقت میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ تاجروں سے اس تصدیقی سہولت کے استعمال پر کوئی اضافی لاگت وصول نہیں کی جائے گی۔ تاہم عملی فائدے کی پیمائش مستقبل میں کلیئرنس ٹائم، دستاویزی تنازعات اور نظام کے استعمال کے اعدادوشمار سے ہوگی۔
پاکستان سنگل ونڈو پہلے ہی متعدد سرکاری اداروں سے متعلق درآمد و برآمدی طریقہ کار کو ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ValidAP کے انضمام سے اس نظام میں سرحد پار دستاویزاتی اعتماد کا ایک اضافی تکنیکی مرحلہ شامل ہوا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں دوسرے ملک کے ریگولیٹر کو پاکستان سے جاری الیکٹرانک سرٹیفکیٹ کی تصدیق درکار ہو۔
یہ پیش رفت بلاک چین کے مالیاتی استعمال کے بجائے دستاویزی تصدیق کی ایک مخصوص سرکاری مثال ہے۔ نظام کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کتنے تجارتی شراکت دار اور ریگولیٹری ادارے اسے اپناتے ہیں، کتنی اقسام کی دستاویزات شامل ہوتی ہیں اور حقیقی تجارتی عمل میں تصدیق کا وقت اور جعل سازی کے خطرات کس حد تک کم ہوتے ہیں۔
