لاہور: وفاقی آئینی عدالت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی محدود کرنے سے متعلق عوامی مفاد کی درخواست 6 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس سنے گا، جبکہ جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔ وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

درخواست سپریم کورٹ کے وکلا شیراز ذکا اور معین اختر نے دائر کی ہے۔ اس سے قبل رجسٹرار آفس نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض کیا تھا، تاہم جسٹس عامر فاروق نے چیمبر میں اپیل منظور کرتے ہوئے اعتراض ختم کیا اور معاملہ باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔ اس مرحلے پر عدالت نے درخواست گزاروں کے بنیادی دعووں پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ کم عمر صارفین سائبر بُلنگ، عادت پیدا کرنے والے پلیٹ فارم ڈیزائن، جنسی نوعیت کے مواد اور بعض دیگر نامناسب مواد کے سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے موجودہ قانونی نظام میں 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کی عمر کی لازمی تصدیق کا واضح نظام موجود نہیں۔ درخواست میں بالخصوص پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کا حوالہ دیتے ہوئے قانون میں مناسب تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں وفاقی حکومت کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے کہ پیکا میں ترمیم کے ذریعے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا رسائی کو عمر کی تصدیق کے مؤثر طریقہ کار سے مشروط کیا جائے۔ اس کے ساتھ حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے درمیان والدین کے کنٹرول کے آلات سے متعلق تعاون اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

درخواست گزاروں نے پیمرا سے متعلق بھی ہدایات مانگی ہیں اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے اوقات میں جب بچوں کے ٹیلی وژن دیکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، مواد کے ضابطوں کا زیادہ سخت نفاذ ہونا چاہیے۔ درخواست میں بیرون ملک اختیار کیے گئے عمر سے متعلق بعض ضابطوں کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم پاکستان میں کسی پابندی یا عمر کی تصدیق کے نظام کے نفاذ کا سوال ابھی عدالتی اور ممکنہ قانون سازی کے مراحل سے مشروط ہے۔

6 نومبر کی سماعت میں بنیادی توجہ درخواست کے قانونی نکات، حکومتی مؤقف اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں پر رہنے کی توقع ہے۔ چونکہ معاملہ ابھی زیرِ سماعت ہے، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ عدالت نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی عائد کر دی ہے۔ فی الحال صرف درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہے اور حتمی حکم عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔