اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے احمدیہ جماعت سے متعلق ایک 23 جلدی اشاعت پر عائد پابندی اور نسخوں کی ضبطی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے، نے مشترکہ فیصلہ سنایا۔ یہ عدالتی فیصلہ ایک قانونی تنازع سے متعلق ہے اور رپورٹ میں بیان کردہ نکات کو اسی عدالتی کارروائی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ڈان کے مطابق درخواست گزاروں نے لاہور ہائی کورٹ اور اس کے ملتان بینچ کے سابق فیصلوں کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ان فیصلوں میں درخواستیں تاخیر اور مقررہ مدت میں دستیاب متبادل قانونی راستہ اختیار نہ کرنے سمیت طریقہ کار کی بنیادوں پر خارج کی گئی تھیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے 25 جون 2014 کے نوٹیفکیشن کی قانونی حیثیت بھی زیر بحث آئی، جس کے تحت متعلقہ 23 جلدوں پر پابندی اور ان کے نسخے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ پابندی سے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت حاصل مذہبی آزادی متاثر ہوئی۔ عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 20 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے لیکن یہ حق قانون، عوامی پالیسی اور اخلاقیات سے مشروط ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کا یہ دعویٰ قبول نہیں کیا کہ زیر بحث انتظامی اقدام لازماً آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی ثابت ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پابندی کا پس منظر علما بورڈ کے فیصلے سے جڑا تھا اور چیف سیکریٹری کے دفتر نے اس فیصلے کو متعلقہ انتظامی سطح تک پہنچایا تھا۔ عدالت نے پابندی کے خلاف دائر اپیلوں کو مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں زیر بحث سرکاری اقدام برقرار رہا۔

یہ معاملہ مذہبی آزادی، اشاعتی مواد پر ریاستی پابندی اور آئینی حقوق کی حدود جیسے حساس قانونی سوالات سے متعلق ہے۔ خبر میں کسی مذہبی گروہ کے عقائد کی توثیق یا تردید مقصود نہیں؛ رپورٹ صرف عدالت کے فیصلے، فریقین کے قانونی مؤقف اور دستیاب عدالتی نتیجے کو بیان کرتی ہے۔ کسی بھی وسیع تر قانونی اثر کا تعین فیصلے کے مکمل متن اور مستقبل میں ممکنہ عدالتی کارروائی کی روشنی میں ہوگا۔