اسلام آباد: فنانس ڈویژن نے وفاقی محکموں کے لیے فنڈز کی ری اپروپری ایشن، ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس اور ضمنی گرانٹس کے طریقہ کار کو سخت کرتے ہوئے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ حکمت عملی ان حالات کے لیے ہے جب کسی منظور شدہ سروس کے لیے مختص رقم ناکافی ہوجائے یا مالی سال کے دوران کسی ایسی نئی ضرورت پر خرچ ضروری ہوجائے جو سالانہ بجٹ دستاویزات میں شامل نہ ہو۔
فنانس ڈویژن کے بجٹ ونگ کی جاری کردہ حکمت عملی آئین کے آرٹیکل 84 اور پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی متعلقہ شقوں کے تحت مرتب کی گئی ہے۔ ہدایات پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، محکموں کے سربراہان، سرکاری اداروں اور ماتحت دفاتر پر لاگو ہوں گی اور موجودہ کے ساتھ آئندہ مالی سالوں میں بھی مؤثر رہیں گی۔
نئے طریقہ کار کے تحت متعلقہ افسران اپنی تفویض شدہ مالی اختیارات کی حدود میں فنڈز کی ری اپروپری ایشن کرسکیں گے، لیکن ایسے بجٹ حصے سے رقم منتقل نہیں کی جاسکے گی جو ابھی جاری ہی نہ ہوئی ہو۔ ملازمین سے متعلق اخراجات میں کمی کی صورت میں غیر ملازم اخراجات کے مدات سے ترجیحی بنیاد پر رقم منتقل کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ منظور شدہ منتقلیوں کو متعلقہ اکاؤنٹنگ دفاتر کے ذریعے سرکاری SAP نظام میں درج کرنا ہوگا۔
فنانس ڈویژن نے 31 مئی کی کٹ آف تاریخ کے بعد ری اپروپری ایشن کی رعایت کے لیے درخواستوں کو بھی محدود کردیا ہے۔ اب ایسی درخواستوں پر صرف مخصوص حالات میں غور ہوگا، مثلاً اکاؤنٹنگ دفاتر کی جانب سے بک کیے گئے زائد اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ، ملازمین سے متعلق اخراجات میں کمی پوری کرنا، یا جون میں واجب الادا ایسی ادائیگیاں جنہیں مؤخر کرنا ممکن نہ ہو۔
ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی درخواست صرف پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر دے سکے گا اور اسے دوسرے منظور شدہ مطالبات میں دستیاب وسائل کی نشاندہی کے ساتھ برابر رقم سرنڈر کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی دینا ہوگا۔ پہلے فنانس ڈویژن کا ایکسپینڈیچر ونگ کیس کی جانچ کرے گا، پھر بجٹ ونگ دستیاب مالی گنجائش، بجٹ ایگزیکیوشن رپورٹ اور سفارشات کی بنیاد پر معاملہ سیکریٹری خزانہ کے سامنے رکھے گا۔ ترقیاتی پروگرام سے متعلق معاملات وزارت منصوبہ بندی کے ذریعے عمل میں آئیں گے۔
سب سے سخت پابندی غیر بجٹ شدہ اضافی اخراجات کے لیے ضمنی گرانٹس پر عائد کی گئی ہے۔ فنانس ڈویژن کے مطابق پارلیمنٹ کی منظور کردہ حد سے زائد اضافی غیر بجٹ شدہ خرچ کے لیے ضمنی گرانٹ عام طور پر زیر غور نہیں آئے گی، سوائے شدید قدرتی آفات جیسے غیر معمولی حالات کے۔ اگر رقم ری اپروپری ایشن یا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ سے مہیا نہ ہوسکے تو متعلقہ افسر کو واضح جواز، وجوہات اور فنانس ڈویژن کی متعلقہ شاخ کی سفارش فراہم کرنا ہوگی۔
ان اقدامات کا مقصد وفاقی اخراجات کو منظور شدہ بجٹ حدود کے قریب رکھنا، سال کے دوران غیر متوقع اضافی مطالبات کو زیادہ سخت جانچ سے گزارنا اور فنڈز کی منتقلی کا سراغ سرکاری مالیاتی نظام میں واضح رکھنا ہے۔

