وفاقی فنانس ڈویژن نے سرکاری اداروں کے لیے فنڈز کی ری اپروپریشن، ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس اور اضافی غیر بجٹ اخراجات کے طریقہ کار کو سخت کرتے ہوئے نئی حکمت عملی جاری کی ہے۔ 18 ستمبر 2026 کو جاری ہونے والے فنانس ڈویژن کے باضابطہ سرکلر کے مطابق یہ ہدایات آئین کے آرٹیکل 84 اور پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کی متعلقہ شقوں کے تحت جاری کی گئی ہیں اور موجودہ کے ساتھ آئندہ مالی سالوں میں بھی قابلِ اطلاق رہیں گی۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ کسی سروس کے لیے منظور شدہ رقم ناکافی ہونے یا ایسی نئی سروس پر خرچ درکار ہونے کی صورت میں، جو سالانہ بجٹ دستاویز اور مجاز اخراجات کے شیڈول میں شامل نہ ہو، پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران اور متعلقہ اداروں کو مقررہ مراحل پر عمل کرنا ہوگا۔ ری اپروپریشن صرف جاری شدہ بجٹ سے کی جا سکے گی؛ غیر جاری شدہ بجٹ سے فنڈ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

فنانس ڈویژن نے ملازمین سے متعلق اخراجات میں کمی کی صورت میں غیر ملازمتی مدات سے فنڈز منتقل کرنے کو ترجیحی بنیاد پر ممکن قرار دیا ہے۔ 2026 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنس کے لیے فراہم کردہ اضافی فنڈز بھی متعلقہ اخراجاتی ونگ سے مشاورت کے بعد مخصوص مقصد ہی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

سرکلر کے مطابق 31 مئی کے بعد ری اپروپریشن کی آخری تاریخ میں نرمی صرف محدود حالات میں زیر غور آئے گی، جن میں اکاؤنٹنگ دفاتر کی جانب سے درج زائد اخراجات کی ایڈجسٹمنٹ، ملازمتی اخراجات کی کمی اور جون میں واجب الادا ناگزیر ادائیگیاں شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے حکم پہلے ہی مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ ہونا ضروری ہوگا۔

ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے لیے درخواست صرف پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر دے سکے گا اور اسے دوسرے مطالبات سے دستیاب وسائل کی نشاندہی اور مساوی رقم کی سرنڈر سرٹیفکیٹ فراہم کرنا ہوگا۔ فنانس ڈویژن کے اخراجاتی ونگ اور بجٹ ونگ درخواست کا جائزہ، SAP نظام کی بجٹ عملدرآمد رپورٹ اور دستیاب مالی گنجائش کی بنیاد پر کریں گے۔ پی ایس ڈی پی سے متعلق معاملات وزارت منصوبہ بندی کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔

سب سے اہم پابندی یہ ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ سطح سے زائد کسی اضافی غیر بجٹ اخراجات کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ عام حالات میں زیر غور نہیں آئے گی؛ فنانس ڈویژن نے شدید قدرتی آفات کو واضح استثنا قرار دیا ہے۔ جہاں ری اپروپریشن یا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ سے ضرورت پوری نہ ہو، وہاں بھی درخواست دینے والے ادارے کو ٹھوس جواز اور متعلقہ ونگ کی سفارش درکار ہوگی۔

یہ قواعد کسی نئی رقم کی فوری منظوری نہیں بلکہ وفاقی اخراجات کے اندر اضافی فنڈز مانگنے اور منتقل کرنے کے طریقہ کار کو منظم کرتے ہیں۔ ان کا عملی اثر وفاقی اداروں کی بجٹ نظم، غیر منصوبہ بند اخراجات اور سال کے آخری مہینوں میں فنڈز کی منتقلی کے فیصلوں پر پڑے گا۔