اسلام آباد: وزارت خزانہ نے صنعتی صارفین پر گیس لیوی کے اثرات اور اس کے حساب کے موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں اور صنعت کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اقدام برآمد کنندگان کی جانب سے توانائی کی لاگت اور عالمی منڈی میں مسابقت سے متعلق اٹھائے گئے تحفظات کے بعد سامنے آیا ہے۔

سرکاری اور صنعتی نمائندوں کے اجلاس میں گیس لیوی کی موجودہ پالیسی، اس کے حسابی فارمولے اور مختلف صنعتوں پر پڑنے والے مالی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا کو بتایا گیا کہ نئی کمیٹی موجودہ طریقہ کار کا جائزہ لے گی اور جہاں ضرورت ہو وہاں پالیسی یا فارمولے میں ممکنہ تبدیلیوں کے لیے سفارشات تیار کرے گی۔

پاکستان کی برآمدی صنعتیں طویل عرصے سے بجلی اور گیس کی قیمتوں کو پیداواری لاگت کا ایک اہم عنصر قرار دیتی رہی ہیں۔ ٹیکسٹائل اور دیگر توانائی استعمال کرنے والے شعبوں کا مؤقف ہے کہ علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں بلند توانائی لاگت برآمدی آرڈرز، قیمتوں اور سرمایہ کاری کے فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ حکومت دوسری جانب توانائی شعبے کے مالی عدم توازن اور لاگت کی وصولی کو بھی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتی ہے۔

کمیٹی کی تشکیل کا مطلب گیس لیوی کی فوری منسوخی یا شرح میں طے شدہ کمی نہیں ہے۔ اس مرحلے پر حکومت نے صرف موجودہ پالیسی اور calculation mechanism کا جائزہ شروع کیا ہے۔ کسی بھی تبدیلی کا انحصار کمیٹی کی سفارشات، وزارت خزانہ کے فیصلے اور جہاں ضروری ہو متعلقہ قانونی یا انتظامی منظوریوں پر ہوگا۔

اجلاس میں صنعتی توانائی لاگت کو برآمدی مسابقت کے وسیع تناظر میں دیکھا گیا۔ برآمد کنندگان کے لیے توانائی قیمتوں میں پیش بینی اہم ہوتی ہے کیونکہ طویل مدتی آرڈرز اور عالمی خریداروں کے ساتھ معاہدوں میں لاگت کے اچانک اضافے کو فوری طور پر منتقل کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے صنعت پالیسی کے واضح اور نسبتاً مستحکم فریم ورک کا مطالبہ کرتی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ حکومت گیس لیوی کے بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے حسابی طریقہ تبدیل کرتی ہے، کسی مخصوص صنعت کے لیے ایڈجسٹمنٹ تجویز کرتی ہے یا موجودہ نظام کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ فی الحال معاملہ پالیسی جائزے کے مرحلے میں ہے۔