ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی آرامکو کی ایک تنصیب کے قریب بڑے پیمانے پر آگ اور دھواں دیکھے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، تاہم واقعے کی فوری سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی۔ رائٹرز نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کے روز آرامکو کی تنصیب کے آس پاس سے شعلے اور دھویں کا بڑا بادل اٹھتا دکھائی دیا۔

رپورٹ شائع ہونے تک سعودی حکام نے آگ کی وجہ، مقام کی نوعیت، ممکنہ نقصان یا کسی جانی نقصان کے بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی تھیں۔ سعودی آرامکو نے بھی رائٹرز کی فوری درخواست پر تبصرہ نہیں کیا۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ آگ خود تنصیب کے اندر لگی، اس کے قریب کسی دوسرے مقام پر لگی، یا اس کا سبب کیا تھا۔

یہ اطلاع ایسے وقت سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ ہفتوں میں سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم 3 اکتوبر کو ریاض میں دیکھی گئی آگ کی ذمہ داری فوری طور پر کسی فریق نے قبول نہیں کی۔ اس واقعے کو کسی حملے سے جوڑنے کے لیے فی الحال مصدقہ شواہد دستیاب نہیں ہیں۔

حوثیوں نے گزشتہ ہفتے ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی عرب نے اس وقت کہا تھا کہ اس نے طائف اور ینبع کی سمت داغے گئے چھ بیلسٹک میزائل روک لیے، جبکہ آرامکو تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ یہ سابقہ واقعہ موجودہ ریاض کی آگ کی وجہ ثابت نہیں کرتا بلکہ صرف علاقائی سکیورٹی پس منظر فراہم کرتا ہے۔

سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں اہم تیل برآمد کنندہ ہے، اس لیے آرامکو کی تنصیبات سے متعلق کسی بھی سکیورٹی واقعے پر بین الاقوامی توجہ فوری طور پر بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اس مخصوص واقعے میں بنیادی حقیقت ابھی اتنی ہی ہے کہ رائٹرز کے عینی شاہد نے آرامکو تنصیب کے قریب آگ اور دھواں دیکھا، جبکہ سرکاری تصدیق، نقصان کی تفصیل اور وجہ سامنے نہیں آئی۔ مزید معلومات سعودی حکام یا کمپنی کے باضابطہ بیان کے بعد ہی واضح ہوں گی۔