کراچی: رواں مالی سال 2026-27 کے ابتدائی 70 روز میں پاکستان کے سرکاری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 275 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار میں یکم جولائی سے 11 ستمبر تک ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز دونوں میں بیرونی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی ہے۔

اعداد کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ٹریژری بلز میں 151.4 ملین ڈالر جبکہ طویل مدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں 123.7 ملین ڈالر لگائے۔ دونوں اقسام کی سرمایہ کاری ملا کر مجموعی حجم تقریباً 275 ملین ڈالر بنتا ہے۔ طویل مدتی پی آئی بیز میں سرمایہ کاری اس لیے نمایاں ہے کہ حالیہ عرصے میں بیرونی پورٹ فولیو سرمایہ عموماً کم مدت کے سرکاری کاغذات کی طرف زیادہ مائل رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات سے آنے والی سرمایہ کاری نمایاں رہی۔ یو اے ای کے سرمایہ کاروں نے ٹی بلز میں تقریباً 10 ملین ڈالر اور پی آئی بیز میں 90 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ اعداد مجموعی غیر ملکی پورٹ فولیو بہاؤ کا ایک حصہ ہیں اور انہیں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، یعنی ایف ڈی آئی، سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

سرکاری بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری شرح سود، روپے کی قدر، افراط زر کی توقعات، مالیاتی پالیسی اور ملک کے خطرے کے تاثر سے متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ابتدائی 70 دن کی مضبوط آمد کو پورے مالی سال کے لیے یقینی رجحان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سرمایہ کار مستقبل میں منافع، شرح مبادلہ اور علاقائی حالات میں تبدیلی کے مطابق اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔

موجودہ اعداد ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں جنگی خطرات اور توانائی منڈی کی بے یقینی برقرار ہے۔ اس پس منظر میں پاکستانی سرکاری کاغذات میں بیرونی سرمایہ کاری کی موجودگی قابل توجہ ہے، لیکن اس کے پائیدار ہونے کا اندازہ آنے والے مہینوں کے خالص بہاؤ، بانڈز کی مدت اور سرمایہ کاروں کی جغرافیائی ساخت سے زیادہ واضح ہوگا۔