اسلام آباد: پاکستان کی چار مقامی ریفائنریوں نے حکومت کے ساتھ اپنی پیداواری ٹیکنالوجی جدید بنانے، ایندھن کا معیار بہتر کرنے اور صاف تر مصنوعات کی تیاری کے لیے اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں۔ ڈان کے مطابق ان منصوبوں میں پانچ سال کے دوران تقریباً 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

معاہدوں پر اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کی انتظامیہ نے دستخط کیے۔ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم ڈویژن کے ماتحت انٹر اسٹیٹ گیس کمپنی بھی معاہدوں کا حصہ ہے، جسے عمل درآمد کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ انتظام براؤن فیلڈ پیٹرولیم ریفائننگ پالیسی 2026 کے تحت کیا گیا ہے، جسے جولائی کے آخر میں منظوری دی گئی تھی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پانچویں مقامی ریفائنری پاک عرب ریفائنری کمپنی (پارکو) نے فی الحال اپ گریڈیشن معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ ذرائع کے مطابق پارکو اپنی موجودہ ٹیکنالوجی کو نسبتاً جدید سمجھتی ہے۔ اگر وہ بھی مستقبل میں اس پروگرام میں شامل ہوتی ہے تو مجموعی ممکنہ سرمایہ کاری کا حجم تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

پالیسی کے تحت موجودہ ریفائنریوں کو اپنے پلانٹس جدید بنانا، پیداواری صلاحیت اور مصنوعات کا معیار بہتر کرنا اور فرنس آئل کی پیداوار کم کرنا ہوگی۔ منصوبوں کا ہدف یورو-V معیار کے ماحول دوست ایندھن کی تیاری ہے۔ ڈان کے مطابق اپ گریڈیشن کے بعد پیٹرول کی مجموعی پیداوار تقریباً 72 فیصد بڑھ کر 18 ہزار 400 ٹن یومیہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار 39 فیصد بڑھ کر 29 ہزار 520 ٹن یومیہ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس کے برعکس فرنس آئل کی پیداوار میں 63 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ریفائننگ پالیسی میں سرمایہ کاری کے تحفظ، مشینری کی درآمد، کسٹمز ڈیوٹی اور مخصوص مالی مراعات سے متعلق انتظامات بھی شامل ہیں۔ ریفائنریوں کو اپ گریڈ منصوبوں کے لیے مخصوص ایسکرو اکاؤنٹس قائم کرنے ہوں گے، جبکہ بعض مراعات کی رقم انہی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے مختص کی جائے گی۔ منصوبے مکمل ہونے کے بعد خام تیل کے ذخیرے کے لیے بھی کم از کم مدت کی شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ ملک کی توانائی سکیورٹی بہتر ہو سکے۔

اٹک ریفائنری کے سربراہ عادل خٹک نے معاہدوں کو مقامی ریفائننگ صنعت کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق جدید کاری سے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے اور زرمبادلہ بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم بڑے منصوبوں کے لیے فنانسنگ، انجینئرنگ، خریداری، تعمیر اور کمیشننگ کے مراحل اگلے پانچ سال میں مکمل کرنا ہوں گے، اس لیے سرمایہ کاری کے عملی نتائج مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔