پیرس: فرانس میں حکومت کے مجوزہ اخراجات میں کمی کے بجٹ کے خلاف یونینوں کے ملک گیر احتجاج کے دوران ہائی اسکول طلبہ کی ناکہ بندیاں بھی شدت اختیار کر گئیں، جبکہ بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ڈان میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق طلبہ گزشتہ ہفتے سے اوقاتِ کار، کلاسوں کے حجم، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی وسائل کے مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں اور متعدد اسکولوں کے داخلی راستے بند کیے گئے ہیں۔

منگل کو پیرس کے گرد واقع ال دی فرانس خطے میں تقریباً دس اسکولوں میں ناکہ بندیوں کی اطلاع دی گئی، جبکہ یہ احتجاج لیل، نانت، مارسیل اور لیون سمیت دوسرے شہروں تک بھی پھیل گیا۔ لیل میں بعض نقاب پوش طلبہ اور پولیس کے درمیان کشیدگی کے بعد آنسو گیس استعمال کی گئی۔ پیرس کے بعض اسکولوں کے باہر طلبہ نے طویل تعلیمی اوقات، کلاس رومز کی حالت اور اساتذہ پر کام کے بوجھ کے خلاف نعرے لگائے۔

یہ طلبہ تحریک ایسے وقت میں جاری ہے جب فرانس کی بڑی یونینیں وزیر اعظم سباستین لیکورنو کی حکومت کے مجوزہ بجٹ کے خلاف ملک گیر مظاہروں اور ہڑتالوں کا اہتمام کر رہی ہیں۔ اساتذہ اور فائر سروس کے کارکنوں کی ہڑتالیں بھی احتجاجی پروگرام کا حصہ ہیں۔ سخت گیر سی جی ٹی یونین کی سربراہ سوفی بینیٹ نے حکومت سے بجٹ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کٹوتیوں سے معاشی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ یونین کا سیاسی و معاشی موقف ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔

فرانسیسی حکومت نے اسکولوں میں پرتشدد یا جبری ناکہ بندیوں پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزیر اعظم لیکورنو نے کہا کہ اسکول احتجاج میں کسی بھی قسم کی شدت یا تشدد غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق پیر کے روز 164 افراد گرفتار کیے گئے اور 180 اسکول متاثر ہوئے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ پرامن احتجاج اور تشدد یا املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں فرق کیا جائے گا۔

ملک گیر احتجاج کا فوری پس منظر سرکاری اخراجات، خدمات اور مالیاتی نظم کے بارے میں جاری سیاسی اختلاف ہے۔ حکومت بجٹ پر دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ یونینیں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ کٹوتیوں کا بوجھ سرکاری ملازمین، تعلیم اور عوامی خدمات پر پڑے گا۔ مظاہروں کی حتمی تعداد اور ہڑتالوں کے معاشی اثرات کے بارے میں مکمل سرکاری اعداد ابھی سامنے نہیں آئے۔

احتجاجی لہر سے یہ واضح ہے کہ بجٹ بحث اب پارلیمانی اور مالیاتی دائرے سے نکل کر اسکولوں اور سرکاری خدمات تک پہنچ چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کی جانب سے بجٹ میں کسی تبدیلی، یونینوں کے اگلے لائحہ عمل اور طلبہ احتجاج پر انتظامی ردعمل سے بحران کی سمت زیادہ واضح ہوگی۔