برسلز: گروپ آف سیون ممالک نے بلند عالمی ایندھن قیمتوں اور سپلائی دباؤ کے تناظر میں ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 100 ملین بیرل خام تیل، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جی7 کے مشترکہ بیان کے مطابق یہ عمل بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے فریم ورک کے ذریعے مربوط انداز میں کیا جائے گا اور ریلیز فوری شروع ہو کر تقریباً چار ماہ تک جاری رہے گی۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی 20 دنوں میں ڈیزل کی نمایاں مقدار مارکیٹ میں لانے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم مشترکہ بیان میں یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ 100 ملین بیرل میں خام تیل اور ڈیزل کا الگ الگ حصہ کتنا ہوگا یا ہر شریک ملک کتنی مقدار فراہم کرے گا۔ اسی لیے مجموعی عدد کو ایک مشترکہ سیاسی و پالیسی عزم سمجھا جا رہا ہے جس کی عملی تقسیم آئندہ آئی ای اے مشاورت میں واضح ہوگی۔
یہ فیصلہ ایران جنگ کے باعث عالمی تیل منڈی میں پیدا ہونے والے دباؤ اور بلند ایندھن قیمتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مارچ میں آئی ای اے کے رکن ممالک نے 400 ملین بیرل کی ایک بڑی ہنگامی ریلیز پر اتفاق کیا تھا، جس کا تقریباً دو تہائی حصہ جاری ہو چکا ہے۔ نئی 100 ملین بیرل ریلیز کے بارے میں یہ بھی واضح نہیں کہ اس میں مارچ کے وعدے کا باقی حصہ کس حد تک شامل ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر ڈیزل ذخائر جاری کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور امریکی ڈیزل برآمدات محدود کرنے کا امکان بھی زیر بحث آیا تھا۔ بعد میں انہوں نے کہا کہ امریکہ برآمدی پابندی نافذ نہیں کرے گا۔ جی7 کے بیان میں رکن ممالک نے آپس میں توانائی مصنوعات پر برآمدی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
ہنگامی ذخائر کی ریلیز کا مقصد فوری سپلائی بڑھا کر قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے، لیکن اس کا حقیقی اثر عالمی طلب، جنگ سے متاثرہ پیداوار، ریفائننگ صلاحیت اور تجارتی راستوں کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ جی7 نے ضرورت پڑنے پر مزید ڈیزل ریلیز کے امکان پر آئی ای اے کے اندر دوبارہ مشاورت کا بھی عندیہ دیا ہے۔
