اسلام آباد: خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گیس پائپ لائنوں اور تیل و گیس کی تلاش و پیداوار سے وابستہ تنصیبات کو سکیورٹی خطرات سے بچانے کے لیے حکومت 14 خصوصی سکیورٹی ونگز قائم کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ انتظام سی پیک کے سکیورٹی ماڈل کو سامنے رکھ کر تیار کیا جا رہا ہے اور مجموعی ابتدائی لاگت تقریباً 46 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو برس میں شیوا، بیٹنی اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے شمالی نیٹ ورک پر تخریب کاری کے تقریباً 23 واقعات رپورٹ ہوئے، جن کے نتیجے میں 7,624 ملین مکعب فٹ گیس کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔ مقامی گیس کی قیمت پر اس نقصان کی مالیت تقریباً 12.7 ارب روپے اور ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی قیمت کے حساب سے تقریباً 27.7 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ اعداد متعلقہ ذرائع سے منسوب ہیں اور حتمی سرکاری آڈٹ کے نتائج کے طور پر پیش نہیں کیے گئے۔
مجوزہ فریم ورک کے پہلے حصے میں ایس این جی پی ایل کی پائپ لائنوں اور شمالی گیس ذرائع کے تحفظ کے لیے چار مستقل ونگز قائم کرنے کی تجویز ہے۔ ان چار ونگز کے قیام کی لاگت 12 ارب روپے اور سالانہ جاری اخراجات تقریباً 4 ارب روپے بتائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پہلے سے موجود دو ونگز کو منہا کرنے کے بعد اضافی ضرورت کے لیے تقریباً 8.969 ارب روپے ابتدائی اور 2 ارب روپے سالانہ اخراجات کا تخمینہ ہے۔ اس حصے کے اخراجات گیس کی مقررہ قیمت میں شامل ہونے کی صورت میں صارفین پر منتقل ہو سکتے ہیں۔
دوسرے حصے میں تیل و گیس کی تلاش، زلزلہ جاتی سروے، ڈرلنگ، ویل ہیڈ تنصیبات اور پروسیسنگ سہولتوں کے تحفظ کے لیے 10 خصوصی ونگز کی تجویز دی گئی ہے، جن میں چار خیبرپختونخوا اور چھ بلوچستان میں تعینات کیے جائیں گے۔ ان کی ابتدائی لاگت 30 ارب روپے بتائی گئی ہے جسے تیل و گیس کمپنیوں، وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کے درمیان برابر تقسیم کرنے کی تجویز ہے۔ سالانہ تقریباً 10 ارب روپے کے جاری اخراجات کمپنیوں کے ذمے رکھنے کی تجویز ہے، اس لیے اس حصے کو براہ راست صارفین پر منتقل نہ کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شمالی علاقوں کی حالیہ دریافتیں قومی گیس نظام کے لیے اہم ہیں اور متعدد مقامات سے مقامی گیس ایس این جی پی ایل کے نیٹ ورک میں شامل ہو رہی ہے۔ سکیورٹی واقعات کے باعث پیداوار، نئی دریافتوں کی بروقت ترقی اور پائپ لائن رابطوں میں رکاوٹ کا خطرہ حکومت اور کمپنیوں کے لیے مالی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
یہ منصوبہ فی الحال زیر غور تجویز ہے؛ رپورٹ میں اسے حتمی منظور شدہ صارف سرچارج یا نافذ شدہ قیمت اضافے کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ کسی بھی حتمی مالی اثر کا انحصار حکومتی منظوری، ریگولیٹری عمل، لاگت کی تقسیم اور گیس نرخوں سے متعلق آئندہ فیصلوں پر ہوگا۔




