اسلام آباد: حکومت گیس پائپ لائنوں اور تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کی سکیورٹی کیلئے 14 خصوصی ونگز قائم کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ سکیورٹی فریم ورک سی پیک منصوبوں کیلئے استعمال ہونے والے انتظام کی طرز پر تیار کرنے کی تجویز ہے اور اس کا بنیادی مرکز خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حساس علاقے ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ 14 ونگز کے قیام کی مجموعی لاگت تقریباً 46 ارب روپے لگائی گئی ہے۔ زیر غور طریقہ کار میں یہ رقم گیس کی قیمتوں میں شامل کرکے صارفین سے وصول کی جائے گی۔ تاہم یہ ابھی ایک زیر مطالعہ تجویز ہے، اس لیے اسے نافذ شدہ سرچارج یا حتمی نرخ میں اضافہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
سکیورٹی منصوبے کی وجہ حالیہ برسوں میں گیس انفراسٹرکچر پر تخریب کاری کے واقعات سے ہونے والے مالی اور توانائی کے نقصانات بتائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ دو برس میں شیوا اور بیٹنی پائپ لائنوں اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے شمالی نیٹ ورک پر تقریباً 23 تخریب کاری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات سے 7,624 ملین مکعب فٹ گیس کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا، جو رپورٹ کے مطابق تقریباً 25 ایل این جی کارگوز کے برابر ہے۔
مالی نقصان کا حجم گیس کی قیمت کے مفروضے کے مطابق مختلف بنتا ہے۔ مقامی گیس کی 6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت پر نقصان کا تخمینہ 12.7 ارب روپے جبکہ ری گیسیفائیڈ ایل این جی کی 13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت پر تقریباً 27.7 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ ان اعداد کا مقصد پائپ لائن حملوں سے پیدا ہونے والے معاشی بوجھ کو ظاہر کرنا ہے۔
مجوزہ ونگز صرف پائپ لائنوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ حساس علاقوں میں کام کرنے والی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کے اثاثوں اور سرگرمیوں کے تحفظ کا دائرہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ حکومت کیلئے بنیادی پالیسی سوال یہ ہوگا کہ سکیورٹی کی اضافی لاگت کو صارفین، کمپنیوں اور سرکاری وسائل کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے۔
اگر 46 ارب روپے کی مکمل لاگت گیس ٹیرف میں منتقل کی جاتی ہے تو اس کے صارفین کے بلوں پر اثرات کا انحصار وصولی کی مدت، صارفین کی مختلف کیٹیگریز اور ریگولیٹری منظوری پر ہوگا۔ رپورٹ میں حتمی فی یونٹ اضافہ نہیں بتایا گیا۔ اس لیے موجودہ مرحلے پر قابل تصدیق بات یہی ہے کہ 14 خصوصی سکیورٹی ونگز اور ان کی لاگت صارفین سے وصول کرنے کی تجویز حکومتی غور میں ہے۔




