گلگت: گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے 54.24 ملین یورو، تقریباً 17.2 ارب روپے، مالیت کے ایک بڑے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان رورل ڈویلپمنٹ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس منصوبہ فرانسیسی ترقیاتی ادارے اے ایف ڈی، یورپی یونین، آغا خان فاؤنڈیشن اور مقامی شراکت کے مالی تعاون سے نافذ کیا جائے گا۔

معاہدے پر گلگت بلتستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری برائے ترقی ریاض احمد، اے ایف ڈی کے کنٹری ڈائریکٹر مارک انتوان لیکلرک اور آغا خان فاؤنڈیشن پاکستان کے چیف ایگزیکٹو اختر اقبال نے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں دستخط کیے۔ تقریب میں وزیر اعلیٰ امجد حسین، پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبلس اور صوبائی وزرا بھی شریک ہوئے۔ منصوبہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا احاطہ کرے گا۔

منصوبے کے تحت پانی اور صفائی کی مجموعی طور پر 216 اسکیموں پر کام کیا جائے گا۔ ان میں 117 پینے کے پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبے اور 30 صفائی کی اسکیمیں شامل ہیں۔ قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں پن بجلی کے منصوبوں سے 1,200 سے 1,300 کلوواٹ تک صاف توانائی پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ تمام 110 یونین کونسلوں میں موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینے، 3,000 گھروں کو ماحول دوست انداز میں اپ گریڈ کرنے اور مزید 700 گھروں میں توانائی مؤثر اور موسمیاتی مزاحم تعمیر کی معاونت بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

منصوبہ تقریباً 43,200 گھرانوں، یعنی اندازاً 325,600 افراد تک پہنچنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ فائدہ اٹھانے والوں میں کم از کم 40 فیصد خواتین کی شمولیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مقامی اداروں اور کمیونٹیز کو موسمیاتی منصوبہ بندی، کاروباری ترقی اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کے انتظام کی تربیت بھی دی جائے گی تاکہ تعمیراتی کام کے ساتھ انتظامی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو۔

اسی تقریب میں گلگت بلتستان کے لیے 30 سالہ انرجی ماسٹر پلان کی اہم سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ یہ روڈمیپ یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے انرجی پلس منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اس کا مقصد خطے میں قابلِ اعتماد، نسبتاً سستی اور موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے والی توانائی فراہمی کی سمت متعین کرنا ہے۔ حکام کے مطابق گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی اور موسمیاتی خطرات کو یکجا طور پر حل کرنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی، مقامی انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی تیاری کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوگا۔