اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بتایا گیا ہے کہ گلگت میں نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تکمیل کے قریب ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق مجوزہ منصوبے کے لیے تقریباً 1,800 ایکڑ رقبے پر غور کیا جا رہا ہے اور حتمی مقام کا انتخاب کمیٹی کی سفارشات اور فزیبلٹی کے نتائج کی روشنی میں کیا جائے گا۔

کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت کے لیے فضائی رابطے میں بڑھتی ہوئی طلب اور پروازوں میں تاخیر کے مسائل کے تناظر میں نئے ہوائی اڈے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق فزیبلٹی اسٹڈی اب ایڈوانس مرحلے میں ہے، تاہم اس رپورٹ میں منصوبے کی حتمی منظوری، تعمیر شروع ہونے کی تاریخ یا مجموعی لاگت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو منصوبہ بندی اور تکنیکی جائزے کا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ موجودہ گلگت ایئرپورٹ کے رن وے اور لائٹنگ سسٹمز کو جدید بنایا گیا ہے، جس سے دیگر ایئرلائنز کے لیے آپریشن شروع کرنے کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔ حکام نے توقع ظاہر کی کہ نجی ایئرلائنز دسمبر تک اضافی طیارے اپنے بیڑوں میں شامل کر سکتی ہیں، جس سے اندرون ملک فضائی رابطوں میں بہتری اور پروازوں کی تاخیر کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گلگت بلتستان کا جغرافیہ اور موسمی حالات فضائی آپریشن کے لیے مخصوص تکنیکی تقاضے پیدا کرتے ہیں، اسی لیے نئے گرین فیلڈ ایئرپورٹ کے مقام، رن وے کی ضروریات اور رسائی کے معاملات فزیبلٹی کے اہم حصے ہوں گے۔ دستیاب رپورٹ میں حتمی سائٹ کے انتخاب کا اعلان نہیں کیا گیا اور واضح کیا گیا ہے کہ فیصلہ متعلقہ سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

کمیٹی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق موجودہ ایئرپورٹ میں بہتری اور نئے ہوائی اڈے کی منصوبہ بندی متوازی طور پر فضائی رابطے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ منصوبہ کس مقام، لاگت، تعمیراتی شیڈول اور آپریشنل ڈیزائن کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔