کیلیفورنیا: گوگل نے پروجیکٹ سن کیچر کے تحت اپنی مصنوعی ذہانت کی چپس کو خلا میں آزمانے کے اگلے مرحلے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایک پروٹوٹائپ سیٹلائٹ کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ اس کے ٹینسر پروسیسنگ یونٹس اور متعلقہ ہارڈویئر خلائی ماحول میں کس طرح کام کرتے ہیں۔ اس تحقیق کا طویل مدتی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا بڑے پیمانے کی مشین لرننگ کمپیوٹنگ مستقبل میں خلا میں قائم کی جا سکتی ہے۔

گوگل کے مطابق خلائی کمپیوٹنگ کے سامنے کئی بنیادی انجینئرنگ چیلنجز موجود ہیں۔ ان میں شدید تابکاری، لانچ کے دوران کمپن، خلا میں حرارت خارج کرنے اور ویکیوم میں ہارڈویئر کو مستحکم رکھنے کے مسائل شامل ہیں۔ ابتدائی مشن کا مقصد تجارتی سطح کا ڈیٹا سینٹر قائم کرنا نہیں بلکہ ہارڈویئر کے رویے اور ڈیزائن کی عملی جانچ کرنا ہے۔

پروجیکٹ سن کیچر کا تصور شمسی توانائی سے چلنے والے باہم مربوط سیٹلائٹس کے کلسٹر پر مبنی ہے۔ گوگل نے پہلے بتایا تھا کہ مستقبل میں ایسے سیٹلائٹس کو تیز رفتار لیزر لنکس کے ذریعے جوڑ کر بڑے اے آئی ورک لوڈز چلانے کے امکان پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ خلا میں تقریباً مسلسل شمسی توانائی کی دستیابی اس تصور کی ایک بڑی کشش ہے، تاہم لاگت، مواصلات، حرارتی نظم اور ہارڈویئر کی پائیداری اب بھی بڑے سوالات ہیں۔

کمپنی نے نومبر 2025 میں پروجیکٹ سن کیچر کو ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر متعارف کرایا تھا اور اس وقت دو پروٹوٹائپ سیٹلائٹس کو 2027 کے اوائل تک مدار میں بھیجنے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا۔ 24 ستمبر کی تازہ تفصیلات میں کمپنی نے ہارڈویئر کی خلائی بقا، کولنگ اور مستقبل کے سیٹلائٹ کلسٹرز کے لیے درکار ٹیکنالوجی پر جاری کام کو نمایاں کیا ہے۔

اس شعبے میں گوگل اکیلا نہیں ہے۔ متعدد ٹیکنالوجی اور خلائی کمپنیاں کم زمینی مدار میں کمپیوٹنگ یا ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر کے امکانات پر کام کر رہی ہیں، کیونکہ زمین پر اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی اور زمین کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

تاہم پروجیکٹ سن کیچر ابھی تحقیقی اور تجرباتی مرحلے میں ہے۔ ابتدائی خلائی آزمائشوں کے نتائج ہی یہ طے کرنے میں مدد دیں گے کہ بڑے پیمانے پر اے آئی کمپیوٹنگ کو مدار میں منتقل کرنا تکنیکی اور معاشی طور پر قابلِ عمل ہو سکتا ہے یا نہیں۔