سان فرانسسکو: گوگل نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے پروجیکٹ سن کیچر کے تحت ایک پروٹوٹائپ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گا، جو کمپنی کی مصنوعی ذہانت کی چپس کی پہلی عملی مداری آزمائش ہوگی۔ اس تحقیقی منصوبے کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مستقبل میں بڑے پیمانے پر اے آئی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کا کچھ حصہ خلا میں قائم کرنا تکنیکی طور پر ممکن ہو سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سیٹلائٹ SpaceX کے آئندہ Transporter-18 رائیڈ شیئر مشن کے ذریعے، سیٹلائٹ کمپنی Planet Labs کے تعاون سے، کم زمینی مدار میں بھیجا جائے گا۔ اس پر گوگل کے Tensor Processing Units یعنی TPUs نصب ہوں گے۔ آزمائش میں یہ دیکھا جائے گا کہ یہ چپس راکٹ لانچ کے جھٹکوں، خلائی تابکاری، انتہائی درجہ حرارت اور خلا کے ویکیوم جیسے حالات میں کس حد تک قابل اعتماد طریقے سے کام کرتی ہیں۔

گوگل نے زمین پر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کی ایک سہولت میں اپنے TPUs پر اے آئی ورک لوڈز چلا کر تجربات کیے ہیں، لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ حقیقی مداری ماحول میں کارکردگی سمجھنے کے لیے خلائی آزمائش ضروری ہے۔ تابکاری الیکٹرانکس میں خرابی یا ڈیٹا کی غلطیوں کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ خلا میں روایتی ہوا کے ذریعے ٹھنڈا کرنے کا طریقہ کام نہیں کرتا۔ اس لیے گوگل ہیٹ پائپس اور ریڈی ایٹرز کے امتزاج سے چپس کو ٹھنڈا رکھنے کے ڈیزائن کا بھی جائزہ لے گا۔

پروجیکٹ سن کیچر کے پیچھے ایک اہم خیال یہ ہے کہ کم زمینی مدار میں موجود نظام قریباً مسلسل شمسی توانائی تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی بڑھتی طلب کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیاں متبادل توانائی اور کمپیوٹنگ مقامات پر تحقیق کر رہی ہیں۔ SpaceX اور Starcloud سمیت دیگر کمپنیاں بھی خلا میں ڈیٹا سینٹرز یا کمپیوٹنگ کلسٹرز کے تصورات پر کام کر رہی ہیں۔

تاہم گوگل نے واضح کیا ہے کہ اگلے ہفتے کا مشن کسی مکمل فعال خلائی ڈیٹا سینٹر کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔ اس کا مقصد بنیادی مداری ڈیٹا جمع کرنا، چپس اور تھرمل ڈیزائن کی کمزوریاں شناخت کرنا اور مستقبل کی انجینئرنگ کے لیے تجرباتی نتائج حاصل کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق لانچ کی بلند لاگت، سیٹلائٹ تیاری کی محدود صلاحیت اور خلائی انجینئرنگ کی پیچیدگیاں اس تصور کو تجارتی سطح تک پہنچنے سے ابھی کئی سال دور رکھ سکتی ہیں۔

کمپنی نے 2027 میں دو مزید سیٹلائٹس بھیجنے کا منصوبہ بھی بتایا ہے، جن کے ذریعے مستقبل کے خلائی کمپیوٹنگ کلسٹرز کو آپس میں جوڑنے کے لیے تیز رفتار لیزر لنکس کی آزمائش کی جائے گی۔ موجودہ مشن اس طویل مدتی تحقیق کا پہلا حقیقی مداری قدم ہوگا۔