اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ سے متعلق 11 ہزار 695 زیر التوا درخواستیں نمٹانے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سولر صارفین کو درپیش انتظامی اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کم کرنا اور بجلی کے نظام میں چھوٹے پیمانے کی قابلِ تجدید توانائی کی شمولیت کو آسان بنانا بتایا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک بھر میں گھریلو اور تجارتی صارفین کی بڑی تعداد شمسی توانائی کے نظام نصب کر رہی ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے زیر التوا نیٹ میٹرنگ کیسز کے حل کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے درخواست گزاروں کے ساتھ براہ راست رابطے اور انتظامی رکاوٹوں کی نشاندہی کا عمل شروع کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 11,695 درخواستوں کی کلیئرنس اس مہم کا اہم مرحلہ ہے۔
نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر پینل رکھنے والے صارفین اپنی ضرورت سے زائد بجلی قومی گرڈ میں منتقل کر سکتے ہیں اور مقررہ قواعد کے مطابق اس کا مالی یا یونٹ کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ حاصل کرتے ہیں۔ اس نظام کی تیزی سے توسیع کے باعث تقسیم کار کمپنیوں، ریگولیٹر اور صارفین کے درمیان کنکشن، میٹر کی تبدیلی، تکنیکی منظوری اور بلنگ سے متعلق شکایات میں بھی اضافہ ہوا تھا۔
وزارت توانائی کے مطابق زیر التوا درخواستیں نمٹانے کا مقصد صارفین کے حقوق کا تحفظ، شفاف طریقہ کار اور قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کو زیادہ پائیدار بنانا ہے۔ حکومت نے اسے ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر پیش کیا ہے، تاہم نیٹ میٹرنگ کے ٹیرف، گرڈ پر مالی اثرات اور نئے صارفین کے لیے مستقبل کے قواعد پر پالیسی بحث بدستور جاری ہے۔
توانائی کے شعبے میں نیٹ میٹرنگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی بجلی کی فروخت اور تقسیم کار کمپنیوں کی آمدن کے ڈھانچے پر بھی اثر ڈالا ہے۔ اسی لیے حکومت کو ایک طرف صارفین کی سرمایہ کاری اور سولر اپنانے کی حوصلہ افزائی اور دوسری طرف گرڈ کے مالی استحکام کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ تازہ کلیئرنس بنیادی طور پر زیر التوا انتظامی کیسز سے متعلق ہے اور اسے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں کسی نئی بنیادی تبدیلی کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔




