اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپے 91 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 393 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں اس بار کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر برقرار رہے گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 24 اکتوبر سے 26 اکتوبر تک ہوگا۔ حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیز اتار چڑھاؤ کے تناظر میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین مختصر وقفوں میں کرنے کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ تازہ فیصلے میں ڈیزل مہنگا ہوا ہے جبکہ پیٹرول کی موجودہ قیمت برقرار رکھی گئی ہے۔

سرکاری اعداد کے مطابق حکومت پیٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بعض صنعتی سرگرمیوں، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی نقل و حمل اور پیداواری لاگت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

ڈیزل کی موجودہ قیمت رواں سال اپریل میں ریکارڈ کی گئی 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند ترین سطح سے کم ہے۔ فروری کے آخر میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی تیل منڈی میں دباؤ بڑھا اور پاکستان میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ حکومت نے بعد میں قیمتوں کے تعین کا دورانیہ مختصر کیا تاکہ بین الاقوامی نرخوں میں تیز تبدیلیوں کو مقامی قیمتوں میں نسبتاً جلد منتقل کیا جا سکے۔

حالیہ مہینوں میں حکومت نے مہنگے ایندھن اور ممکنہ رسد کے خطرات کے باعث کفایت شعاری اور توانائی بچت کے اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں۔ ان میں سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے مختص کو محدود کرنا اور کاروباری اوقات سے متعلق اقدامات شامل رہے ہیں۔ تازہ قیمتیں صرف اعلان کردہ مدت کے لیے ہیں، اس لیے 26 اکتوبر کے بعد عالمی منڈی، شرح مبادلہ اور متعلقہ سرکاری حساب کی بنیاد پر نئی نظرثانی متوقع ہوگی۔