کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کیس کی تازہ پولیس چارج شیٹ میں عمارت کی انتظامیہ کی مبینہ غفلت کو مرکزی نکتہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق نبی بخش پولیس نے 3 ستمبر کی تاریخ والی چارج شیٹ جنوبی ضلع کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جمع کرائی، جس میں چار افراد کو ٹرائل کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ قانونی کارروائی ایک الزام نامہ ہے؛ اس میں درج الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔

گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کی شب لگنے والی آگ کو مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگے تھے۔ واقعے میں کم از کم 73 افراد جان سے گئے اور 1,100 سے زیادہ دکانیں تباہ ہوئیں۔ جولائی میں جمع کرائی گئی سابقہ چارج شیٹ کو مجسٹریٹ نے تحقیق کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے مزید تفتیش کے ساتھ نئی چارج شیٹ تیار کی۔

تازہ دستاویز میں چار افراد کو مقدمے کے لیے بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے، جن میں ایک دکاندار کے والد نعمت اللہ، گل پلازہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا اور ایسوسی ایشن کے اراکین عمار اسماعیل اور محمد رمضان شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق عمارت کے حجم کے مقابلے میں آگ بجھانے کا سامان ناکافی تھا اور ایمرجنسی لائٹس کا مناسب متبادل انتظام موجود نہیں تھا۔

چارج شیٹ میں تفتیش کے دوران سامنے آنے والے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ آگ کے وقت عمارت کے صرف دو دروازے کھلے تھے، جبکہ بعض آہنی دروازے بند اور تیسری منزل کے گیٹ مقفل پائے گئے۔ دستاویز کے مطابق بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کے بعد متبادل روشنی نہ ہونے سے بھی لوگوں کے انخلا میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ پولیس نے فائر سیفٹی آلات کی مقدار اور دیکھ بھال کو بھی ناکافی قرار دیا۔

چارج شیٹ میں فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے کردار سے متعلق کہا گیا کہ دستیاب وسائل کے ساتھ آگ بجھانے اور امدادی کارروائی کی کوشش کی گئی اور تفتیش میں ریسکیو اداروں کی مجرمانہ غفلت کے لیے ٹھوس شہادت سامنے نہیں آئی۔ تاہم اس سے پہلے سندھ حکومت کی انکوائری اور عدالتی کمیشن نے شہری و بلدیاتی نظام کی وسیع تر ناکامیوں اور حفاظتی ضابطوں پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کی نشاندہی کی تھی۔

عدالتی کمیشن نے بھی بند راستوں، اندھیرے، فائر سیفٹی نظام کی کمی اور مؤثر انسپکشن نہ ہونے جیسے عوامل کو سانحے کے تناظر میں اہم قرار دیا تھا۔ پولیس کی تازہ چارج شیٹ اسی بڑے واقعے میں فوجداری ذمہ داری متعین کرنے کی ایک نئی کوشش ہے، مگر نامزد افراد کے خلاف الزامات ثابت ہونا ابھی باقی ہے اور حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔