خلیجی ممالک نے یکم مارچ سے 13 جولائی 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 21 ہزار 951 پاکستانی شہریوں کو مختلف وجوہ کی بنیاد پر ڈی پورٹ کیا۔ ڈان کی براہِ راست جانچی گئی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد وزارتِ انسداد منشیات نے قومی اسمبلی کے وقفۂ سوالات میں رکنِ اسمبلی حامد حسین کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کیے۔ وجوہ میں زائد قیام، غیر قانونی داخلہ، بھیک مانگنا، منشیات سے متعلق معاملات، پناہ کی درخواست مسترد ہونا، جعلی دستاویزات اور سکیورٹی وجوہ شامل بتائی گئیں۔
سرکاری جواب کے مطابق سب سے زیادہ تقریباً 15 ہزار 500 پاکستانی سعودی عرب سے واپس بھیجے گئے۔ متحدہ عرب امارات سے 3 ہزار 803، عمان سے ایک ہزار 606، بحرین سے 521، قطر سے 429 اور کویت سے 97 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے۔ یہ ملک وار اعداد اسی پارلیمانی جواب سے منسوب ہیں؛ انہیں کسی فرد کے جرم یا سزا کا عمومی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ ہر معاملے کی قانونی اور انتظامی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔
مزید تفصیل میں 4 ہزار 628 مفرور قرار دیے گئے افراد، ایک ہزار 294 جیل سے متعلق کیس، 968 بلیک لسٹ افراد، گم شدہ پاسپورٹ سے متعلق ایک ہزار 155 معاملات، ویزا خلاف ورزی کے 689 اور داخلہ مسترد ہونے کے 342 واقعات بیان کیے گئے۔ جواب میں 6 ہزار 662 افراد کو ”دیگر“ کے عنوان کے تحت رکھا گیا، لیکن وزارت نے اس وسیع زمرے کی مزید تقسیم فراہم نہیں کی۔ یہی غیر واضح حصہ اعداد کی مکمل تشریح میں اہم حد ہے۔
رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک سے 472 پاکستانی بھکاری بھی واپس بھیجے گئے، جبکہ بعض معاملات زائد یا غیر قانونی قیام، میعاد ختم ہونے والے اقاموں اور سفری دستاویزات سے متعلق تھے۔ متحدہ عرب امارات سے نو افراد کی واپسی انٹرپول کے ذریعے بتائی گئی۔ خبر میں بیان کردہ تمام وجوہ سرکاری جواب کے زمرے ہیں؛ کسی نامعلوم فرد پر مخصوص الزام عائد نہیں کیا جارہا اور نہ ہی ڈی پورٹ ہونا ہر صورت میں عدالتی سزا کے برابر ہے۔
اعداد بیرونِ ملک روزگار، درست ویزا حیثیت، دستاویزات کی جانچ اور میزبان ملک کے قوانین سے آگاہی کی ضرورت نمایاں کرتے ہیں۔ حکومت کے لیے ”دیگر“ زمرے کی وضاحت، متاثرہ شہریوں کے قانونی حقوق اور غیر قانونی بھرتی یا سفری نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات اہم اگلے سوالات ہیں۔ مکمل پالیسی ردعمل یا نئی پابندی کا اعلان اس جواب میں نہیں کیا گیا؛ فی الحال قومی اسمبلی کو دی گئی عددی معلومات ہی تصدیق شدہ پیش رفت ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




