وزیراعظم شہباز شریف نے حمزہ فاروق کو پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (پی سی سی اے) کا چیئرپرسن دو سال کے کنٹریکٹ پر مقرر کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 22 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور دو سال یا مزید احکامات تک جاری رہے گی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق نئے چیئرپرسن کو اسپیشل پروفیشنل پے اسکیل-I یعنی ایس پی پی ایس-I کی زیادہ سے زیادہ سطح کے مساوی ماہانہ تنخواہ اور مراعات دی جائیں گی۔ پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کا کردار وفاقی سطح پر موسمیاتی پالیسی، موافقت، اخراج میں کمی، بین الادارہ جاتی رابطے اور ماحولیاتی حکمرانی سے متعلق امور میں اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس عہدے کی تقرری پالیسی عملدرآمد کے تناظر میں اہم ہے۔

جیو نیوز کے مطابق حمزہ فاروق موسمیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کاروباری شخصیت ہیں اور ہائیڈروسَن ٹیکنالوجیز کے بانی ہیں۔ وہ 2016 سے 2023 تک لندن میں گولڈمین ساکس میں نائب صدر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں ان کے تعلیمی پس منظر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ڈوئر اسکول آف سسٹین ایبلٹی اور گریجویٹ اسکول آف بزنس سے ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ ولیمز کالج سے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں بیچلرز کیا۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات سے دوچار ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، گلیشیئر پگھلنے، شہری آلودگی اور زرعی پیداوار پر موسم کے اثرات نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت بڑھائی ہے۔ پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ موجودہ قوانین، قومی پالیسیوں اور بین الاقوامی موسمیاتی ذمہ داریوں کے تناظر میں ادارہ جاتی عمل کو منظم کرنے میں کردار ادا کرے گی۔

نئی تقرری ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حکومت مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ موسمیاتی موافقت، توانائی کی منتقلی، پانی، جنگلات اور آفات سے بچاؤ کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ اتھارٹی کے نئے سربراہ کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہوگا کہ پالیسی دستاویزات کو قابل پیمائش منصوبوں، مالیاتی ضروریات اور وفاقی و صوبائی اداروں کے واضح کردار میں تبدیل کیا جائے۔

جیو نیوز کی رپورٹ میں تقرری کے نوٹیفکیشن کی بنیادی شرائط اور حمزہ فاروق کے پیشہ ورانہ پس منظر کی تفصیل دی گئی ہے، تاہم اتھارٹی کے لیے ان کی فوری ترجیحات یا نئے انتظامی منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے آئندہ سرکاری بیانات اور اتھارٹی کی کارروائیاں واضح کریں گی کہ نئی قیادت کن شعبوں کو اولین ترجیح دیتی ہے۔