کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ایک کوئلہ کان کے اندر گیس کے دھماکے کے نتیجے میں چار کان کن جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے، جبکہ زیرِ زمین پھنس جانے والے پانچ کارکنوں کو ریسکیو آپریشن کے ذریعے زندہ نکال لیا گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حادثہ اتوار کو پیش آیا اور دھماکے کے بعد کان کے اندر موجود کارکنوں تک رسائی کے لیے امدادی کارروائی شروع کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی ٹیموں نے کان میں پھنسے پانچ مزدوروں کو نکالا۔ حادثے میں زخمی ہونے والے کارکنوں کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ ابتدائی معلومات میں دھماکے کی وجہ کان کے اندر گیس کا جمع ہونا بتائی گئی ہے، تاہم کسی تفصیلی سرکاری تحقیق کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ اس لیے حادثے کی تکنیکی وجہ اور حفاظتی ضوابط کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق حتمی نتیجہ متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہی اخذ کیا جا سکے گا۔
بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں گیس جمع ہونے، وینٹی لیشن کی ناکافی سہولت اور حفاظتی آلات سے متعلق مسائل ماضی میں بھی متعدد جان لیوا حادثات کا باعث بن چکے ہیں۔ ٹریبیون کی رپورٹ میں مزدور تنظیموں کے نمائندوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کان کن طویل عرصے سے ناکافی حفاظتی سازوسامان اور کام کی مشکل صورتحال پر شکایات کرتے رہے ہیں۔ ان نمائندوں کے مطابق صوبے میں کانوں کی بڑی تعداد کے مقابلے میں حفاظتی معائنے کے لیے دستیاب انسپکٹرز کی تعداد محدود ہے۔
حالیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب بلوچستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کان کنی سے متعلق دیگر مہلک حادثات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اگست میں مستونگ کے علاقے ڈیگاری میں ایک کان میں گیس دھماکے سے تین مزدور جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ جولائی کے آخر میں کوئٹہ کے قریب ایک شدید میتھین دھماکے میں بڑی تعداد میں کان کنوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ان واقعات کے بعد مزدور تنظیموں نے حفاظتی نگرانی، وینٹی لیشن، ہنگامی اخراج اور ریسکیو استعداد بہتر بنانے کا مطالبہ دہرایا تھا۔
ہرنائی کے واقعے میں فوری ترجیح زخمی کارکنوں کا علاج اور جائے حادثہ کو محفوظ بنانا ہے۔ آئندہ مرحلے میں محکمہ معدنیات، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حفاظتی اداروں کی ذمہ داری ہوگی کہ دھماکے کے اسباب، کان کے حفاظتی انتظامات اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیں۔ واقعے سے ایک بار پھر بلوچستان کی کان کنی کی صنعت میں کارکنوں کی جان کے تحفظ اور مؤثر حفاظتی معائنے کی ضرورت نمایاں ہوئی ہے۔




