کراچی: ایچ بی ایل پاکستان مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) ستمبر 2026 میں 50.9 پر آگیا، جبکہ اگست میں یہ 51.8 تھا۔ 50 سے اوپر کی ریڈنگ عمومی طور پر مینوفیکچرنگ سرگرمی میں توسیع کی نشاندہی کرتی ہے، اس لیے تازہ عدد شعبے میں مجموعی نمو برقرار رہنے کے باوجود رفتار میں کمی دکھاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ گزشتہ تین ماہ کی سست ترین توسیع ہے۔

ایچ بی ایل کی پریس ریلیز پر مبنی بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں طلب کے حالات کمزور ہوئے اور نئے آرڈرز جون کے بعد پہلی مرتبہ سکڑے۔ صنعت کاروں نے بلند ایندھن قیمتوں اور گھریلو قوتِ خرید پر دباؤ کو ملکی طلب کی کمزوری سے جوڑا۔ اس کے برعکس نئے برآمدی آرڈرز میں مسلسل پانچویں ماہ اضافہ ہوا، جس نے مجموعی کاروباری سرگرمی کو کچھ سہارا دیا۔

طلب میں نرمی کے باوجود مینوفیکچررز نے خام مال اور دیگر ان پٹس کی خریداری سات ماہ کی تیز ترین رفتار سے بڑھائی۔ رپورٹ کے مطابق اس کا ایک مقصد ذخائر مضبوط کرنا اور ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے خلاف تیاری کرنا تھا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی تیل اور ٹرانسپورٹ لاگت کے اثرات کے باعث کمپنیوں نے سپلائی کے خطرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے خریداری میں اضافہ کیا۔

قیمتوں کے حوالے سے رپورٹ میں ملا جلا رجحان سامنے آیا۔ ان پٹ قیمتوں میں اضافے کی رفتار ستمبر میں مزید کم ہوئی، لیکن ایندھن بدستور ایک اہم لاگتی دباؤ رہا۔ کمپنیوں نے بڑھتی آپریٹنگ لاگت کا کچھ حصہ فروخت قیمتوں میں منتقل کیا، جس سے آؤٹ پٹ یا سیلنگ پرائس انفلیشن میں تیزی دیکھی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خام مال کے بعض دباؤ نرم ہونے کے باوجود صارف یا کاروباری سطح پر قیمتوں کا دباؤ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ایچ بی ایل کی ہیڈ آف ایکویٹیز اینڈ ریسرچ حمیرا قمر کے مطابق کاروباری اعتماد 2026 کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جس کی بنیاد مستقبل میں بہتر طلب اور فروخت کی توقعات پر تھی۔ تاہم انہوں نے ملکی آرڈرز کی کمزوری اور تیز فروخت قیمتوں کو صنعتی بحالی کے لیے خطرہ قرار دیا اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو اہم بیرونی عامل بتایا۔

PMI ایک سروے پر مبنی تیز رفتار معاشی اشاریہ ہے، اس لیے اسے سرکاری صنعتی پیداوار کے اعداد کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم ستمبر کی ریڈنگ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کی مینوفیکچرنگ سرگرمی توسیع کے دائرے میں رہی، مگر مقامی طلب کی کمزوری اور توانائی لاگت کے باعث رفتار سست ہوئی۔ آئندہ مہینوں میں برآمدی آرڈرز، ایندھن قیمتیں اور گھریلو قوتِ خرید اس شعبے کی سمت کے لیے اہم رہیں گے۔