اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اور نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم آف پاکستان نے ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کا اہم نتیجہ پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک (PERN)/HEC کو ”ایجوکیشن سیکٹر کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم“ یعنی EduCERT کے طور پر قائم کرنا ہے، تاکہ جامعات اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے سائبر خطرات سے متعلق ایک مربوط رابطہ نظام فراہم کیا جا سکے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق معاہدے کا مقصد سائبر حملوں اور ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات کی روک تھام، بروقت نشاندہی اور ردِعمل کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ EduCERT کے ذریعے یونیورسٹیوں کو خطرات کی نگرانی، واقعہ رابطہ کاری، معلومات اور تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے، سکیورٹی آگاہی اور ادارہ جاتی سائبر لچک کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جائے گا۔

معاہدے پر ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الحق اور نیشنل CERT کی ڈائریکٹر گورننس، رسک اینڈ کمپلائنس ڈاکٹر مہرین افضل نے دستخط کیے۔ تقریب میں چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، نیشنل CERT کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر حیدر عباس اور دونوں اداروں کے دیگر سینئر نمائندے بھی موجود تھے۔

چیئرمین ایچ ای سی کے مطابق اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، علمی نظام اور ادارہ جاتی ڈیٹا کا تحفظ بڑھتی ہوئی آن لائن سرگرمیوں کے ساتھ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مربوط کوششوں، بروقت معلوماتی تبادلے اور اداروں کی اندرونی صلاحیت میں اضافے پر زور دیا۔ معاہدے کے تحت EduCERT جامعات کو ایک دوسرے کے تجربات، خطرات سے متعلق معلومات اور بہترین عملی طریقوں سے فائدہ اٹھانے میں بھی مدد دے گا۔

نیشنل CERT پاکستان میں قومی سطح پر سائبر واقعات کے رابطے، رہنمائی، سکیورٹی آڈٹ، صلاحیت سازی اور واقعہ مینجمنٹ کے لیے سرکاری ڈھانچے کا حصہ ہے۔ اس کے قواعد میں سرکاری اداروں، اہم انفراسٹرکچر، کاروباری شعبے اور اکیڈمیا سمیت مختلف حلقوں کے لیے رابطہ اور مدد کے کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔

نئے معاہدے سے کسی ایک جامعہ کے بجائے پورے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے مخصوص سیکٹرل ردِعمل کا انتظام بنانے کی کوشش سامنے آتی ہے۔ عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ EduCERT کے تحت خطرات کی رپورٹنگ، معلوماتی تبادلے، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور ہنگامی ردِعمل کے طریقہ کار کو کس حد تک مؤثر اور مسلسل انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔