موغادیشو/کراچی: صومالیہ کے نیم خودمختار خطے پنٹ لینڈ میں ہائی جیک شدہ آئل ٹینکر ایم ٹی ہونر 25 کی بازیابی کے بعد حکام اور پاکستانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ تین پاکستانی ملاحوں سمیت پانچ عملہ ارکان ہلاک ہوئے۔ پنٹ لینڈ حکام کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں جہاز سرکاری کنٹرول میں آ گیا اور متعدد مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا۔

ہونر 25 کو 21 اپریل 2026 کو پنٹ لینڈ کے ساحل سے تقریباً 30 ناٹیکل میل دور قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جہاز پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا جن میں 10 پاکستانی شامل تھے۔ کئی ماہ تک عملے کے اہل خانہ نے ان کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان، بین الاقوامی اداروں اور سمندری تنظیموں سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔

پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات کے مطابق قزاقوں نے کارروائی شروع ہونے سے پہلے پانچ عملہ ارکان کو قتل کیا، جن میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل تھا۔ دوسری جانب پاکستانی بچ جانے والے ملاحوں کے بیانات، جو انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ نے نقل کیے، میں کہا گیا کہ قزاقوں نے سیکیورٹی فورسز کے دباؤ میں جہاز چھوڑتے وقت یرغمالیوں پر فائرنگ کی۔ واقعات کی درست ترتیب سے متعلق ان دونوں بیانات میں جزوی فرق موجود ہے، تاہم پانچ ہلاکتوں اور تین پاکستانی شہریوں کی موت کی بنیادی اطلاع متعدد ذرائع سے سامنے آئی ہے۔

انصار برنی ٹرسٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانیوں میں سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور بوائلر رفیع اللہ شامل تھے۔ رپورٹوں میں چار افراد کے زخمی ہونے کا بھی ذکر ہے، جن میں پاکستانی عملہ ارکان شامل بتائے گئے ہیں۔ پاکستانی حکام سے زخمیوں کی واپسی اور ہلاک ہونے والوں کی میتیں اہل خانہ تک پہنچانے کے لیے رابطوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے کہا کہ جہاز کو بازیاب کرانے کے آپریشن میں مشتبہ قزاقوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتاریوں کی تعداد کے بارے میں ابتدائی بیانات میں فرق رہا، تاہم بعد کی معلومات میں 16 افراد کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا۔ حکام نے یہ بھی کہا کہ فرار ہونے والے مزید مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

پاکستانی عملے کے اہل خانہ کئی ماہ سے یرغمالیوں کے حالات پر تشویش ظاہر کرتے رہے تھے۔ دورانِ قید عملے کی جانب سے خوراک، صاف پانی اور ادویات کی قلت سے متعلق اپیلیں بھی سامنے آئی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق قزاقوں نے ابتدا میں کئی ملین ڈالر تاوان طلب کیا تھا اور بعد میں رقم کم کی گئی، تاہم کسی حتمی تاوان ادائیگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

صومالیہ کے ساحل اور خلیج عدن میں حالیہ عرصے میں بحری قزاقی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ہونر 25 کی بازیابی نے جہاز رانی کی سلامتی، طویل یرغمالی بحرانوں کے دوران عملے کے تحفظ اور بین الاقوامی سمندری تعاون سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔