اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے ہواوے کے پاکستان میں پہلے قومی سطح کے اسپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح کر دیا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق اسلام آباد میں قائم یہ مرکز ٹیلی کام ہارڈویئر کی مقامی مرمت، جانچ اور دیکھ بھال کی صلاحیت بڑھانے، بیرونِ ملک مرمت پر انحصار کم کرنے اور نیٹ ورک کی دستیابی بہتر بنانے کے مقصد سے بنایا گیا ہے۔
سرکاری اور خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق مرکز فی الحال تقریباً 10 ہزار آلات کی مرمت کی گنجائش رکھتا ہے اور لگ بھگ 180 مختلف اقسام کے ٹیلی کام آلات پر کام کر سکتا ہے۔ اس سہولت سے ایسے آلات، جو پہلے مرمت کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے پڑتے تھے، ملک کے اندر بین الاقوامی معیار کے مطابق درست کیے جا سکیں گے۔ اس سے مرمت میں لگنے والا وقت اور لاجسٹکس لاگت کم ہونے کے ساتھ زرمبادلہ کے اخراج میں بھی کمی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
شزا فاطمہ نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ ٹیلی کام آلات اب صرف عام رابطے یا سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے بلکہ ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور نیٹ ورک بندش کے دوران بنیادی انفراسٹرکچر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مقامی سطح پر تکنیکی مرمت کی دستیابی سے آپریٹرز کو خرابی کی صورت میں آلات جلد واپس استعمال میں لانے میں مدد مل سکتی ہے اور نیٹ ورک تسلسل بہتر ہو سکتا ہے۔
وزارتِ آئی ٹی نے اس مرکز کو پاکستان میں ہارڈویئر سے متعلق تکنیکی مہارت بڑھانے کی کوششوں سے بھی جوڑا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سافٹ ویئر اور آئی ٹی خدمات کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام ہارڈویئر کی مرمت اور دیکھ بھال میں مقامی مہارت پیدا ہونے سے ہنرمند روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہواوے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو ایتھن سن بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔
ہواوے 1998 سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور ٹیلی کام نیٹ ورک، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تربیتی پروگراموں میں مختلف منصوبوں کا حصہ رہی ہے۔ حکومتی بیان کے مطابق کمپنی کی اکیڈمیز متعدد جامعات میں تربیتی سرگرمیاں بھی چلا رہی ہیں۔ مرمتی مرکز کی مستقبل کی افادیت کا انحصار اس کی عملی صلاحیت، مقامی تکنیکی عملے کی تربیت اور پاکستان و خطے کے آپریٹرز سے حاصل ہونے والے کام کے حجم پر ہوگا۔

