کراچی: آئی جی آئی انویسٹمنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے ایکزو نوبل پاکستان لمیٹڈ میں 98.31 فیصد حصص کی خریداری مکمل کر لی ہے۔ آئی جی آئی ہولڈنگز لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی نے ICI Omicron B.V. سے طے شدہ حصص حاصل کرنے کے لیے 15.246 ارب روپے کی خریداری قیمت ادا کی اور لین دین 30 ستمبر 2026 کو مکمل ہوا۔

بزنس ریکارڈر اور پروفٹ بائی پاکستان ٹوڈے کے مطابق یہ معاہدہ پہلے طے شدہ شیئر پرچیز ایگریمنٹ کے تحت مکمل کیا گیا۔ آئی جی آئی ہولڈنگز کا کہنا ہے کہ متعلقہ کارپوریٹ اور ریگولیٹری شرائط پوری کر لی گئی تھیں، جن میں کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری بھی شامل ہے۔ کمپیٹیشن کمیشن نے گزشتہ ماہ اس حصول کی کلیئرنس دی تھی۔

کمپنی کی اطلاع کے مطابق آئی جی آئی انویسٹمنٹس اب ایکزو نوبل پاکستان کے اکثریتی حصص کی مالک بن گئی ہے۔ اس کے ساتھ کمپنی نے باقی 1.69 فیصد حصص، جو اقلیتی شیئر ہولڈرز کے پاس ہیں، الگ انتظامات کے ذریعے حاصل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ مرحلہ موجودہ مکمل شدہ 98.31 فیصد حصول سے الگ ہے اور اس کے لیے جو بھی قانونی یا تجارتی تقاضے لاگو ہوں گے وہ اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔

ایکسو نوبل پاکستان مقامی مارکیٹ میں ڈیکوریٹو پینٹس اور صنعتی کوٹنگز تیار اور فروخت کرتی ہے۔ اپریل 2026 میں آئی جی آئی کی جانب سے مجوزہ حصول سے متعلق ایک پہلے پی ایس ایکس افشا میں اس ٹرانزیکشن کے لیے ایک انٹرپرائز ویلیو تقریباً 16.224 ارب روپے بتائی گئی تھی، جبکہ 30 ستمبر کو مکمل ہونے والی خریداری میں حصص کی ادائیگی 15.246 ارب روپے رپورٹ کی گئی۔ دونوں اعداد مختلف مالی تصورات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انہیں براہ راست ایک ہی قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اکتوبر 2025 میں آئی جی آئی انویسٹمنٹس نے پہلی مرتبہ اس کاروبار میں بڑے حصص کے حصول کے امکان کا جائزہ لینے کی منظوری ظاہر کی تھی۔ بعد میں اپریل 2026 میں 98.31 فیصد حصص کے مجوزہ حصول سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں اور ریگولیٹری مراحل مکمل کیے گئے۔ 30 ستمبر کی تکمیل کے بعد کمپنی نے باضابطہ طور پر اکثریتی ملکیت حاصل کر لی ہے۔

اس پیش رفت کا فوری طور پر تصدیق شدہ نتیجہ ملکیت کی منتقلی اور آئی جی آئی گروپ کے صنعتی پورٹ فولیو میں ایکزو نوبل پاکستان کی شمولیت ہے۔ کمپنی نے اس وقت آپریشنل ڈھانچے، برانڈ پالیسی یا ملازمین سے متعلق کسی بڑی تبدیلی کی تفصیل جاری نہیں کی، اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔