اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے قیام پر 2019 سے جاری موریٹوریم کے معاملے پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے فیولیکس پیٹرولیم پرائیویٹ لمیٹڈ کی درخواست پر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی کہ وہ پابندی کی موجودہ ریگولیٹری حیثیت اور نئے لائسنسنگ معیار کی تیاری میں پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کرے۔ اگلی سماعت 8 اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کمپنی نے اوگرا کے 14 اپریل 2026 کے خط کو چیلنج کیا ہے، جس کے ذریعے آئل مارکیٹنگ کمپنی کے لائسنس کی اس کی درخواست اس بنیاد پر قبول نہیں کی گئی کہ وفاقی حکومت نے نئی او ایم سیز کے قیام پر موریٹوریم عائد کر رکھا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اوگرا کو درخواست صرف پابندی کی بنیاد پر مسترد کرنے کے بجائے پاکستان آئل رولز 2016 میں مقرر کردہ معیار کے تحت جانچنی چاہیے تھی۔

عدالتی کارروائی میں 9 جنوری 2019 کی اس ہدایت کو بھی چیلنج کیا گیا جس کے تحت اوگرا سے کہا گیا تھا کہ مقامی سرمایہ کاروں کی نئی درخواستیں اس وقت تک قبول نہ کی جائیں جب تک او ایم سیز کے قیام کے نظرثانی شدہ معیار کی منظوری نہ ہو جائے۔ درخواست گزار کے مطابق یہ پابندی عارضی انتظام کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی اور اسے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے نئے معیار کی منظوری سے منسلک کیا گیا تھا۔

کمپنی نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً سات سال گزرنے کے باوجود نظرثانی شدہ معیار کی منظوری نہ ہونے سے مقامی سرمایہ کاروں کے لیے موریٹوریم عملاً غیر معینہ مدت تک جاری ہے۔ درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ 2019 کی ہدایت کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی درخواستوں کے لیے گنجائش موجود تھی جبکہ مقامی سرمایہ کار پابندی کی زد میں رہے۔

درخواست گزار نے اوگرا کی 2024-25 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ اس مدت میں نئی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے داخلے کا ریکارڈ موجود ہے، حالانکہ موریٹوریم کے جاری رہنے کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے وکیل نے پابندی کے قانونی اختیار پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ لائسنس جاری کرنے کا قانونی اختیار اوگرا کے پاس ہے اور یہ عمل متعلقہ ریگولیٹری قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

عدالت نے فی الحال موریٹوریم کو ختم یا غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے قرار دیا کہ درخواست گزار کے اٹھائے گئے نکات غور طلب ہیں اور فریقوں سے رپورٹ اور شق وار جواب طلب کیا۔ اوگرا کی جامع رپورٹ کے بعد عدالت اس تنازعے کے قانونی اور ریگولیٹری پہلوؤں پر مزید سماعت کرے گی، اس لیے موجودہ حکم ایک عبوری عدالتی پیش رفت ہے نہ کہ لائسنس کے حق میں حتمی فیصلہ۔