اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی ایک شق کو قانونی اثر سے محروم قرار دیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں یا محکموں کی سفارش پر شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ، یعنی پی سی ایل، میں شامل کیے جا سکتے تھے۔ ایک تفصیلی فیصلے میں جسٹس انعام امین منہاس نے قرار دیا کہ رول 22(2)(b) کا متعلقہ حصہ بیرون ملک سفر کے آئینی حق پر ایسی پابندی عائد کرتا ہے جس کے لیے واضح اور رہنما قانونی معیار موجود نہیں۔ عدالت نے درخواست گزار کے نام کو پی سی ایل سے نکالنے سے انکار کرنے والا حکم بھی کالعدم قرار دیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق درخواست گزار معین الدین نے 26 جنوری 2026 کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کا نام پی سی ایل سے ہٹانے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔ اس سے پہلے 18 دسمبر 2025 کو انہیں اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی عرب عمرے کے لیے روانگی کے وقت آف لوڈ کیا گیا تھا، حالانکہ ان کے پاس رپورٹ کے مطابق درست پاسپورٹ، سعودی ویزا اور تصدیق شدہ فضائی ٹکٹ موجود تھا۔ فیصلے میں درج ہے کہ اس وقت حکام نے انہیں روکنے کی وجہ نہیں بتائی۔
درخواست گزار پہلے بھی ہائیکورٹ سے رجوع کر چکے تھے اور عدالت نے 15 جنوری 2026 کو حکام کو ہدایت کی تھی کہ انہیں سماعت کا موقع دے کر زیر التوا درخواستوں پر وجوہات پر مبنی فیصلہ کیا جائے۔ ریکارڈ کے مطابق ان کا نام 24 دسمبر 2024 کو نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول کی سفارش کے بعد پی سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے آگے بھیجا۔ یہ سفارش برطانیہ سے ان کی ملک بدری اور خطرناک ڈرائیونگ سے موت کا سبب بننے کے مقدمے میں سزا سے متعلق تھی۔ درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف تھا کہ وہ سزا پوری کر چکے، پاکستان میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ، انکوائری یا تفتیش زیر التوا نہیں اور نہ ہی کوئی حوالگی درخواست موجود ہے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو تصدیق شدہ فیصلے کی نقل ملنے کے 15 دن کے اندر درخواست گزار کا نام پی سی ایل سے ہٹانے کی ہدایت کی اور متنازع اندراج کی بنیاد پر ان کے قانونی بیرون ملک سفر میں مداخلت سے روکا۔ فیصلہ ایک مخصوص قانونی اختیار اور درخواست گزار کے اندراج سے متعلق ہے؛ اسے ہر قسم کی سفری پابندی یا قانون کے تحت پاسپورٹ سے متعلق دیگر مجاز اقدامات کی عمومی منسوخی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
