اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک اسٹاف مشن پاکستان کے ساتھ توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (RSF) کے تیسرے جائزے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی غرض سے پاکستان پہنچنے کی اطلاع ہے۔ بزنس ریکارڈر نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے مشن کی آمد رپورٹ کی، تاہم خبر کی اشاعت تک وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے سے باضابطہ تصدیق موصول نہیں ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے رواں ماہ کے آغاز میں کہا تھا کہ فنڈ کے ساتھ بات چیت 23 ستمبر کے آس پاس شروع ہونے کا امکان ہے۔ متوقع مذاکرات میں ای ایف ایف کے چوتھے جائزے، آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے ساتھ آئی ایم ایف کی آرٹیکل IV مشاورت بھی شامل ہوگی۔ بات چیت تقریباً دو ہفتے جاری رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے اور جائزے میں جون 2026 تک پاکستان کی معاشی پیش رفت اور پروگرام کے تحت کارکردگی دیکھی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیم حکومت کی جانب سے طے شدہ اہداف اور ساختی شرائط پر پیش رفت کا جائزہ لے گی۔ زیر بحث امور میں ٹیکس اصلاحات، بجلی اور گیس کے شعبوں سے متعلق اقدامات، مالیاتی نظم، زری پالیسی اور دیگر ساختی اصلاحات شامل ہو سکتی ہیں۔ ان نکات پر حتمی نتیجہ مذاکرات اور فریقین کے باضابطہ بیانات کے بعد ہی واضح ہوگا۔
اگر آئی ایم ایف عملہ اور پاکستانی حکام دونوں جائزوں پر اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچتے ہیں تو اسے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری درکار ہوگی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر تک رسائی مل سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں انتظامات کے تحت پہلے ہی مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر وصول کر چکا ہے۔
یہ مرحلہ پاکستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ فنڈ پروگرام کے جائزے میں محض رقوم کے اجرا کے بجائے معاشی پالیسیوں، محصولات، توانائی شعبے اور اصلاحاتی وعدوں کی پیش رفت بھی دیکھی جاتی ہے۔ فی الحال مشن کی آمد کی اطلاع ذرائع سے منسوب ہے؛ مذاکرات کے آغاز، ایجنڈے اور کسی ممکنہ معاہدے کی حتمی حیثیت کے لیے حکومت اور آئی ایم ایف کی سرکاری تصدیق اہم ہوگی۔

