اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے کے لیے مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بات چیت میں پاکستان کے 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت معاشی کارکردگی، طے شدہ اہداف اور پروگرام سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ مذاکرات کی تاریخ کو فی الحال ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے اور حتمی شیڈول میں تبدیلی ممکن ہے۔
اسی دور میں 1.4 ارب ڈالر مالیت کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تیسرے جائزے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ یہ سہولت پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خطرات، معاشی لچک اور طویل مدتی اصلاحات سے نمٹنے میں معاونت کے لیے دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں پروگراموں کے جائزے بیک وقت کیے جانے کی توقع ہے، جس سے مالیاتی اور موسمیاتی پالیسی سے متعلق متعدد شعبے ایک ہی مذاکراتی عمل میں زیر بحث آ سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف کے جائزے کسی پروگرام کے تحت طے شدہ اہداف اور پالیسی اقدامات کی جانچ کا اہم مرحلہ ہوتے ہیں۔ پاکستانی حکام اور فنڈ کی ٹیم عام طور پر مالیاتی کارکردگی، محصولات، اخراجات، توانائی شعبے، زرمبادلہ اور دیگر میکرو اکنامک اشاریوں کا جائزہ لیتے ہیں، تاہم موجودہ رپورٹ نے آئندہ مذاکرات کے تفصیلی ایجنڈے یا ہر ہدف کی مخصوص فہرست جاری نہیں کی۔ اس لیے کسی ممکنہ نتیجے یا نئی شرط کے بارے میں پیشگی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے ای ایف ایف پروگرام کا تسلسل بیرونی مالیاتی اعتماد اور معاشی پالیسی کے فریم ورک کے حوالے سے اہم ہے، جبکہ آر ایس ایف موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی طویل مدتی صلاحیت سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں جائزوں کی کامیابی کا انحصار مذاکرات میں پیش کیے جانے والے اعدادوشمار، پروگرام کے اہداف پر عمل درآمد اور آئی ایم ایف کے تکنیکی جائزے پر ہوگا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ مذاکرات کے دوران ملک کی مجموعی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم کسی قسط کی منظوری، رقم کے اجرا یا پالیسی تبدیلی کے بارے میں اس مرحلے پر حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ 23 ستمبر سے متوقع بات چیت کے آغاز کے بعد ہی جائزوں کے دائرہ کار، مدت اور نتائج کے بارے میں زیادہ واضح معلومات دستیاب ہوں گی۔




