اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی جانب سے تیل کے حالیہ بحران کے دوران کیے گئے انتظامی اقدامات کو سراہتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ گیس کے شعبے میں زیر التوا اصلاحات، ہدفی سبسڈی کے نظام اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے سے نمٹنے کے لیے پیش رفت تیز کی جائے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان توانائی شعبے سے متعلق بات چیت میں تیل کی فراہمی اور قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات کے ساتھ بجلی اور گیس کے شعبوں کی مالی پائیداری کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے بجلی کے شعبے میں ریکوری بہتر ہونے اور ترسیل و تقسیم کے نقصانات میں کمی کی پیش رفت کا اعتراف کیا، تاہم گیس کے شعبے میں اصلاحات کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس تناظر میں گیس کے گردشی قرضے کا حجم تقریباً 3.6 ٹریلین روپے بتایا گیا ہے، جو سرکاری مالیات اور توانائی کمپنیوں کی بیلنس شیٹس پر مسلسل دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

بات چیت میں ہدفی گیس سبسڈی کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ مقصد یہ ہے کہ عمومی اور غیر ہدفی رعایتوں کے بجائے مالی مدد ان صارفین تک محدود کی جائے جو واقعی اس کے مستحق ہوں، جبکہ قیمتوں اور وصولیوں کے نظام کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے کہ نئے واجبات جمع نہ ہوں۔ اسی طرح مستحق بجلی صارفین کو براہ راست نقد معاونت دینے کے طریقہ کار پر حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان آئندہ ہفتے مزید گفتگو متوقع ہے۔

پاکستان کا توانائی شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضے، کم وصولیوں، لائن لاسز، مہنگی پیداواری لاگت اور سبسڈی کے مالی بوجھ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بجلی کے نرخوں اور انتظامی اقدامات کے ذریعے مالی خسارہ محدود کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن گیس شعبے میں واجبات کا حجم بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام میں توانائی شعبے کی مالی پائیداری اہم اصلاحاتی موضوعات میں شامل ہے۔

رپورٹ میں آئی ایم ایف کی تعریف کو پاکستان کے پورے توانائی شعبے کی مکمل بحالی قرار نہیں دیا گیا بلکہ مخصوص بحران کے انتظام اور بجلی شعبے میں بعض اشاریوں کی بہتری کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ گیس شعبے کے گردشی قرضے، سبسڈی کے ہدف اور صارفین پر قیمتوں کے اثرات سے متعلق پالیسی فیصلے آئندہ مذاکرات اور حکومتی اقدامات سے واضح ہوں گے۔