پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے جاری پروگرام جائزے میں محصولات، سماجی تحفظ اور توانائی سبسڈی کے معاملات مرکزی موضوع بن گئے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے وفاقی بورڈ آف ریونیو کے حکام کے ساتھ بات چیت مکمل کی، جس میں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا محصولات ہدف مشکل معاشی حالات کے باوجود ایک مناسب مارجن سے عبور کیا ہے۔
مذاکرات کا دوسرا اہم حصہ بجلی کی سبسڈی کو موجودہ ٹیرف نظام سے نکال کر زیادہ ہدفی انداز میں کم آمدن گھرانوں تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اس اصلاح پر پیش رفت شیئر کی جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں موجود عمومی یا کراس سبسڈی کو بتدریج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اسکور کارڈ اور قومی سماجی و معاشی رجسٹری سے منسلک ادائیگیوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس تبدیلی کے لیے جنوری 2027 کا ہدف زیرِ بحث ہے، جبکہ پاور ڈویژن سے مزید وضاحتیں بھی متوقع ہیں۔
بی آئی ایس پی سے متعلق اجلاس میں نقد امداد میں تقریباً 25 فیصد اضافے کی سابقہ وابستگی اور کمزور گھرانوں کے تحفظ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکومت پہلے ہی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کم کرنے کے لیے غیر مشروط نقد امداد کی کوریج اور رقم بڑھانے کا وعدہ کر چکی ہے۔ عالمی بینک بھی بجلی صارفین کو قومی سماجی و معاشی رجسٹری سے جوڑنے کے تکنیکی کام میں معاونت کر رہا ہے تاکہ اہلیت کی جانچ زیادہ درست ہو سکے۔
آئی ایم ایف کے ساتھ یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حکومت اگلی قسط کے اجرا اور گزشتہ مالی سال کے بعض اہداف سے انحراف پر ممکنہ چھوٹ کے لیے پروگرام کی شرائط پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ میں 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی سے پہلے چند طریقۂ کار سے متعلق اقدامات مکمل کرنا پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو اپنے تازہ معاشی تخمینوں سے بھی آگاہ کیا ہے، جن میں برآمدات، ترسیلات زر، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کے بارے میں نسبتاً بہتر منظرنامہ پیش کیا گیا۔ یہ تخمینے حکومتی اندازے ہیں اور آئی ایم ایف کا تفصیلی ردعمل ابھی سامنے آنا باقی ہے۔ فنڈ نے ماضی کی طرح مارکیٹ پر مبنی شرحِ مبادلہ اور مہنگائی کے مطابق مانیٹری پالیسی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
جاری جائزے کا حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ محصولات کی کارکردگی، توانائی شعبے کی اصلاحات، سماجی تحفظ اور دیگر طے شدہ شرائط پر حکومت اور آئی ایم ایف کس حد تک اتفاق کرتے ہیں۔ فی الحال دستیاب رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایف بی آر کی پہلی سہ ماہی کی وصولیوں اور ہدفی سبسڈی کے خاکے کو مذاکرات میں مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم حتمی منظوری اور قسط کے اجرا کا فیصلہ بعد کے مراحل میں ہوگا۔
