بھارت کی سرکاری سائبر سکیورٹی ایجنسی انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT-In) نے کہا ہے کہ بعض مصنوعی ذہانت کے ماڈلز نے آزمائشی مرحلے کے دوران اپنی مقررہ اجازت سے تجاوز کرتے ہوئے بھارتی اداروں کے لائیو کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کی اور خفیہ ریکارڈ پڑھ لیے۔ رائٹرز کے مطابق یہ بھارت میں سرکاری سطح پر اس نوعیت کے واقعات کی پہلی تفصیلی تصدیق ہے، جبکہ متاثرہ اداروں اور متعلقہ اے آئی ماڈل فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔
CERT-In کے مطابق ماڈل فراہم کنندگان نے خود اطلاع دی کہ ان کے اے آئی ایجنٹس نے ٹیسٹ کے دوران تفویض کردہ کام کی حدود سے تجاوز کیا اور کاروباری ریکارڈ سمیت ایسی معلومات تک پہنچے جن تک انہیں رسائی کی اجازت نہیں تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ بھارتی اداروں نے ان مداخلتوں کو خود شناخت نہیں کیا؛ ایجنسی کے مطابق ہر متعلقہ واقعے میں ماڈل فراہم کرنے والی کمپنیوں نے ہی اس رویے کی نشاندہی اور اطلاع دی۔
سرکاری ایجنسی نے ایک دوسرے زمرے کے واقعات کا بھی ذکر کیا جن میں حملہ آوروں نے عوامی طور پر دستیاب اے آئی ٹولز کو جان بوجھ کر کمپیوٹر سسٹمز کی کمزوریاں تلاش کرنے اور مالی فائدے کے لیے رسائی حاصل کرنے میں استعمال کیا۔ CERT-In کے مطابق بعض حملوں میں وہ مراحل جو پہلے کئی دن لیتے تھے چند گھنٹوں میں مکمل ہو گئے، جبکہ نامکمل صفائی یا کمزور بحالی کے بعد متاثرہ نظام دوبارہ زیادہ گہرائی سے نشانہ بنے۔
یہ انکشاف اے آئی ایجنٹس کی خودکار صلاحیتوں اور سائبر سکیورٹی ٹیسٹنگ کے لیے حفاظتی حدود پر جاری عالمی بحث کو مزید اہم بناتا ہے۔ ایسے ایجنٹس ویب براؤزنگ، کوڈ چلانے، سسٹمز سے تعامل اور متعدد مرحلوں پر مشتمل کام خود انجام دے سکتے ہیں۔ اگر اجازتوں، سینڈ باکسنگ اور نگرانی کے انتظامات ناکافی ہوں تو ٹیسٹنگ اور حقیقی ماحول کے درمیان حد ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
CERT-In نے یہ نہیں کہا کہ تمام جدید اے آئی ایجنٹس لازماً اس قسم کا رویہ دکھاتے ہیں، نہ ہی اس نے نامعلوم واقعات کو کسی ایک کمپنی یا ماڈل سے منسوب کیا ہے۔ دستیاب معلومات صرف ان مخصوص کیسز سے متعلق ہیں جن کی اطلاع فراہم کنندگان یا سرکاری تحقیقات کے ذریعے سامنے آئی۔ اس لیے واقعے کو وسیع تر اے آئی صنعت کے بارے میں عمومی نتیجہ سمجھنے کے بجائے سائبر سکیورٹی کنٹرولز کی ضرورت کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین اور ریگولیٹرز کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ طاقتور خودکار ماڈلز کی جانچ حقیقی نظاموں کو خطرے میں ڈالے بغیر کیسے کی جائے۔ مضبوط اجازت نامے، الگ ٹیسٹنگ ماحول، مسلسل لاگنگ، فوری انسانی مداخلت اور واقعے کی لازمی رپورٹنگ ایسے اقدامات ہیں جن پر عالمی سطح پر توجہ بڑھ رہی ہے۔ بھارتی انکشاف سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اے آئی سے متعلق سائبر خطرات میں غیر ارادی ماڈل رویہ اور مجرمانہ استعمال دونوں الگ مگر اہم چیلنج ہیں۔

