نئی دہلی: بھارتی پولیس نے ہفتہ 3 اکتوبر کو ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف احتجاج کرنے والے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ مسلسل دوسرے روز ہونے والا احتجاج تھا جسے جین زی کی قیادت والی Cockroach Janta Party اور دیگر اپوزیشن گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیاں وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کو فائدہ پہنچاتی ہیں؛ یہ الزام مظاہرین کا مؤقف ہے اور رپورٹ میں اسے کسی عدالتی یا حتمی سرکاری نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
تقریباً 100 مظاہرین نے ہفتے کے روز سکیورٹی رکاوٹیں ہٹائیں اور بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے حق میں نعرے لگائے۔ پولیس نے اس کے بعد بعض مظاہرین کو زبردستی حراست میں لیا۔ رائٹرز کے عینی شاہد کے مطابق آزاد رکن پارلیمان کپل سبل، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا اور سیاسی کارکن پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادیو بھی مظاہرے میں موجود افراد میں شامل تھے۔
پولیس نے فوری طور پر حراست میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد یا تمام شناختوں پر تبصرہ نہیں کیا۔ نیہا بورا نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ مظاہرین کے مطابق پہلے لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے اور اب اس کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا بیان احتجاجی فریق کا مؤقف ہے۔
احتجاج کے منتظمین ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے عمل پر اعتراض کرتے ہوئے انتخابی حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہروں کا سیاسی پس منظر بھی اہم ہے کیونکہ مختلف اپوزیشن حلقے انتخابی فہرستوں کی درستگی اور طریقۂ کار پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکمران جماعت کو فائدہ پہنچنے کا دعویٰ سیاسی تنازع کا حصہ ہے۔
رائٹرز نے ان مظاہروں کو بھارت میں اس سال سامنے آنے والی نوجوانوں کی قیادت والی احتجاجی سرگرمیوں کے سلسلے کا حصہ قرار دیا ہے۔ ہفتے کے واقعے میں مرکزی قابل تصدیق پیش رفت پولیس کی جانب سے متعدد مظاہرین کی حراست اور احتجاج کو منتشر کرنے کی کوشش تھی۔
اس رپورٹ کی تیاری تک پولیس نے گرفتار یا حراست میں لیے گئے تمام افراد کی تعداد جاری نہیں کی تھی۔ اسی طرح ووٹر فہرستوں میں تبدیلی سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچنے کے الزام کی آزادانہ حتمی تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں، اس لیے اسے مظاہرین کے دعوے کے طور پر ہی بیان کیا گیا ہے۔
