بھوبنیشور: بھارت اسکولوں کے اندر اور ان کے آس پاس غیر صحت بخش خوراک کی فروخت محدود کرنے کے لیے نئے ضابطوں کے نفاذ کے قریب پہنچ رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق مجوزہ قواعد کے تحت زیادہ چکنائی، نمک اور شکر والی غذاؤں کی فروخت اسکولوں کے 50 میٹر دائرے میں محدود کی جا سکتی ہے، جس سے ملک کے تقریباً 15 لاکھ اسکولوں کے اردگرد موجود دکانیں، ریستوران اور فوڈ اسٹالز متاثر ہوں گے۔

بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی اس منصوبے کو بچوں میں غیر صحت بخش کھانے کی عادت کم کرنے اور بڑھتے ہوئے موٹاپے سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ مجوزہ پابندی کا دائرہ میٹھے مشروبات، زیادہ نمک والے اسنیکس، چکنائی سے بھرپور فاسٹ فوڈ اور دوسری ایسی مصنوعات تک جا سکتا ہے جو مقررہ غذائی حدود سے زیادہ ہوں۔

اتھارٹی نے اگست میں چکنائی، نمک اور شکر کی وہ حدیں شائع کی تھیں جن کی بنیاد پر کسی خوراک کو پابندی کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز پر عوامی رائے کے لیے 6 اکتوبر تک وقت دیا گیا ہے۔ حتمی قانون کے نفاذ کی کوئی قطعی تاریخ ابھی مقرر نہیں کی گئی، اس لیے ضابطے کی موجودہ شکل مشاورتی اور ریگولیٹری عمل کا حصہ ہے۔

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو راجیت پنہانی کے مطابق مقصد بچوں میں شروع ہی سے بہتر غذائی عادات پیدا کرنا اور کمپنیوں کو اپنی مصنوعات میں چکنائی، نمک اور شکر کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ دکاندار اسکولوں کے قریب ایسی اشیا فروخت کر سکیں گے جو مقررہ غذائی معیار پر پوری اترتی ہوں۔

کاروباری حلقوں کی جانب سے مجوزہ 50 میٹر حد پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ بعض چھوٹے دکانداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کی فروخت میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جبکہ صنعت کی نمائندہ تنظیموں نے ضابطے کے عملی نفاذ اور نگرانی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ مجوزہ قواعد بڑی خوراک اور مشروبات کی کمپنیوں کے لیے بھی اہم ہیں کیونکہ بھارت پہلے ہی زیادہ چکنائی، نمک اور شکر والی مصنوعات پر واضح انتباہی لیبل لگانے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق بھارت میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کی شرح بڑھنے کے باعث حکومت خوراک سے متعلق پالیسی کو زیادہ فعال انداز میں استعمال کر رہی ہے۔ لاطینی امریکا کے بعض ممالک، خصوصاً چلی اور میکسیکو، پہلے ہی غیر صحت بخش خوراک پر سخت لیبلنگ اور اسکولوں کے قریب فروخت کی پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔ بھارتی حکام انہی تجربات کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حتمی ضابطے کی شکل عوامی رائے، صنعت کے اعتراضات اور فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے فیصلے کے بعد واضح ہوگی۔ فی الحال یہ کہنا درست نہیں کہ پابندی نافذ ہو چکی ہے؛ موجودہ پیش رفت ایک مجوزہ ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دینے کی جانب قدم ہے۔