کرائسٹ چرچ: بھارت نے نیوزی لینڈ کے خلاف 226 رنز کا ہدف حاصل کرتے ہوئے ٹی20 بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا سب سے بڑا کامیاب تعاقب مکمل کر لیا۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے میچ میں بھارتی اوپنر سنجو سیمسن نے 33 گیندوں پر 67 رنز کی تیز رفتار اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو چار وکٹوں سے کامیابی دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
بھارت نے ہدف میچ کی آخری تین گیندوں میں داخل ہونے سے پہلے حاصل کر لیا اور دو گیندیں باقی رہتے چھ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ اسکور مکمل کیا۔ 226 رنز کا تعاقب بھارتی ٹیم کی ٹی20 تاریخ میں اس سے پہلے حاصل کیے گئے تمام اہداف سے بڑا تھا، اس لیے یہ فتح محض ایک سیریز میچ کی کامیابی نہیں بلکہ ٹیم کے لیے نیا ریکارڈ بھی بن گئی۔
سیمسن نے اننگز کے آغاز ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور 33 گیندوں کی اپنی باری میں 67 رنز بنائے۔ ان کی تیز رفتار بیٹنگ نے مطلوبہ رن ریٹ کو قابو میں رکھنے میں مدد دی اور بعد کے بلے بازوں کو ہدف کے قریب پہنچنے کے لیے نسبتاً واضح راستہ فراہم کیا۔ بڑے ہدف کے تعاقب میں ابتدائی اوورز میں وکٹیں محفوظ رکھتے ہوئے تیز اسکورنگ بھارت کی حکمت عملی کا اہم حصہ رہی۔
یہ مقابلہ حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ فائنل میں آمنے سامنے آنے والی انہی دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، جس سے میچ کی مسابقتی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ایسا مجموعہ کھڑا کیا جو عام حالات میں دفاع کے لیے مضبوط سمجھا جاتا، مگر بھارتی بیٹنگ لائن نے مسلسل رن ریٹ برقرار رکھا۔
نیوزی لینڈ کے بولرز نے درمیانی اور آخری اوورز میں وکٹیں حاصل کرکے مقابلہ کھلا رکھنے کی کوشش کی، لیکن ہدف اتنا قریب آچکا تھا کہ بھارت نے آخری اوور تک پہنچنے سے پہلے مطلوبہ رفتار برقرار رکھی۔ چار وکٹوں کی فتح اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعاقب کے دوران بھارت کو دباؤ کا سامنا بھی رہا، تاہم مجموعی بیٹنگ گہرائی نے ٹیم کو میچ مکمل کرنے میں مدد دی۔
سیمسن کی 67 رنز کی اننگز اس ریکارڈ تعاقب کی نمایاں کارکردگی رہی۔ بھارت کے لیے یہ نتیجہ محدود اوورز کی کرکٹ میں بڑے اہداف کے خلاف اس کی بیٹنگ صلاحیت کا اہم مظاہرہ ہے، جبکہ نیوزی لینڈ کے لیے دفاعی بولنگ اور ڈیتھ اوورز کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔

