جکارتہ: انڈونیشیا کے قومی انسانی حقوق کمیشن، کومناس ہام، نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو کے مفت غذائی کھانے کے پروگرام سے منسلک حالیہ واقعات کی تحقیقات کی جائیں، جن میں ایک ہفتے کے دوران 2 ہزار سے زائد طلبہ اور اساتذہ بیمار ہوئے۔ یہ واقعات وسطی جاوا، مشرقی جاوا، مغربی سماٹرا اور جنوبی سولاویسی سمیت مختلف علاقوں میں سامنے آئے۔
کومناس ہام نے 4 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ محفوظ خوراک تک رسائی انسانی حق ہے اور مناسب صفائی و حفظان صحت کے سخت معیار کے بغیر ریاستی غذائی مداخلت اپنی اخلاقی بنیاد کھو سکتی ہے۔ کمیشن نے پولیس سے واقعات کے اسباب اور ممکنہ ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے باضابطہ تفتیش شروع کرنے کو کہا۔ انڈونیشیا کی قومی پولیس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کی فوری درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔
انسانی حقوق کمیشن نے مفت کھانے کے پروگرام کی نگران نیشنل نیوٹریشن ایجنسی سے بھی کہا کہ ان کچنوں کی سرگرمیاں معطل کی جائیں جن پر حالیہ بیماریوں سے تعلق کا شبہ ہے۔ یہ مطالبہ کسی کچن کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ نہیں؛ متعلقہ مقامات کی ذمہ داری خوراک کے نمونوں، تیاری کے عمل، ذخیرہ کرنے کے طریقے اور تقسیم کے ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی طے ہو گی۔
مقامی حکام کے مطابق جنوبی سولاویسی کے تانا توراجا علاقے میں جمعرات کو تقریباً 170 طلبہ اور اساتذہ مفت کھانا کھانے کے بعد بیمار ہوئے۔ اس سے پہلے وسطی جاوا، مشرقی جاوا اور مغربی سماٹرا میں تین دن کے دوران 1,700 سے زیادہ افراد کے متاثر ہونے کی اطلاعات آئی تھیں۔ ایک الگ مشرقی جاوا علاقے میں مزید 256 طلبہ کے بیمار ہونے کی خبر بھی دی گئی۔ مختلف مقامات اور رپورٹنگ کے اوقات کے باعث ذیلی اعداد کو براہ راست جمع کرنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے، تاہم رائٹرز اور کومناس ہام نے تازہ مجموعی تعداد 2 ہزار سے زیادہ بیان کی ہے۔
نیشنل نیوٹریشن ایجنسی نے جمعہ کو اس معاملے پر پریس کانفرنس کرنا تھی، مگر اسے وجہ اور نئی تاریخ بتائے بغیر ملتوی کر دیا گیا۔ ادارے کے سربراہ سوداریونو نے ایک روز قبل کہا تھا کہ زہر خورانی کے واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ اس سے پہلے بعض واقعات میں خوراک کو نامناسب انداز میں ذخیرہ کرنے اور پکا ہوا کھانا دیر سے پہنچانے کو ممکنہ وجہ بتایا گیا، لیکن حالیہ تمام واقعات کے لیے کوئی مشترکہ حتمی سبب ابھی ثابت نہیں ہوا۔
رکن پارلیمان چارلس ہونورس نے محکمہ صحت کے اعداد کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یکم ستمبر تک پروگرام سے منسلک خوراکی بیماریوں سے تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہو چکے تھے۔ یہ عدد ایک قانون ساز کی جانب سے پیش کیا گیا اور دستیاب رپورٹ میں اس کی مکمل سرکاری جدول یا آزادانہ توثیق شامل نہیں تھی، اس لیے اسے تصدیق شدہ حتمی مجموعہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
مفت غذائی کھانے کا پروگرام صدر پرابوو کی نمایاں پالیسی ہے اور اسے بچوں میں غذائی کمی کم کرنے کے مقصد سے گزشتہ سال شروع کیا گیا تھا۔ جولائی کے ایک سروے میں صرف تقریباً ایک تہائی جواب دہندگان نے پروگرام پر اطمینان ظاہر کیا اور کئی افراد نے خوراک کی حفاظت کو تشویش کی وجہ بتایا۔ اس کے باوجود پروگرام کے غذائی مقاصد اور ہر مقامی کچن کی کارکردگی الگ سوالات ہیں؛ حالیہ مطالبہ پورے منصوبے پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ سلامتی، نگرانی اور جواب دہی کی فوری جانچ کا تقاضا ہے۔
پولیس تحقیقات شروع ہونے، طبی نمونوں کے نتائج اور نیشنل نیوٹریشن ایجنسی کی کارروائی سے واضح ہو گا کہ بیماریوں کے اس سلسلے میں آلودگی کہاں پیدا ہوئی، کون سے حفاظتی ضابطے ناکام ہوئے اور کیا کسی فرد یا ادارے پر انتظامی یا فوجداری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے تحقیقات اور مشتبہ کچنوں کی عارضی معطلی کا باقاعدہ مطالبہ کیا ہے۔




